اصحاب احمد (جلد 11) — Page 153
153 حاصل ہمیں یہیں رہنے دیں اور چوہدری صاحب کی والدہ صاحبہ کو اطلاع کر دیں مستند منتظمین گھبرائے مگر میں نے کہا آپ میرا نام لے دیں وہ بھی ناراض نہ ہوں گی۔اس وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ ہر دو گاؤں میں کتنا فاصلہ ہے۔غرضیکہ ہم لوگ وہیں رک گئے اور انہیں جب اطلاع ہوئی تو فوراً چل پڑیں۔میں ان کی اس فروتنی پر حیران رہ گئی کہ باوجو د سب اسباب میسر ہونے کے اس زمانہ پیری میں پیدل تشریف لائیں اور فرمانے لگیں راستہ بہت خراب ہے۔اچھا کیا جو یہیں رک گئیں۔میں تو سنتے ہی چل دی۔میرے لڑکے نے بہتیرا کہا کہ سواری کا انتظام کرتے ہیں۔مگر میں نے نہ مانا۔کیونکہ روحانی غذا حاصل کرنے۔۔۔( کیلئے ) جب میری بہنیں دور دور کے گاؤں سے پیدل آ رہی ہیں تو میں کیوں سواری پر جاؤں۔اور مجھے کہا کہ نماز کی پابندی اور شر و فساد سے بچنے کی تلقین کرنا۔وو ” جب آپ کے لڑکے چوہدری شکر اللہ خاں صاحب کو احرار نے زخمی کیا تو انہی دنوں اتفاقاً میرا گذر ڈسکہ سے ہوا۔میں مرحومہ مغفورہ کے پاس گئی۔اظہار افسوس کرنے پر فرمایا۔شکر ہے احمدیت کے لئے مار کھائی۔پھر فرمایا عورتیں آتی ہیں تو مارنے والوں کو بد دعائیں دیتی ہیں۔لیکن میں یہ بات پسند نہیں کرتی۔دشمن کو بددعا نہیں دینی چاہیئے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر پڑے تو آپ نے دشمنوں کے لئے بددعا نہ کی۔بلکہ یہی چاہا کہ خدا ان کو راہ راست دکھائے۔سو میں بھی یہی کہتی ہوں کہ الہی ان نادان دشمنوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دے مالی قربانی آپ کا نام بھی مینارہ اسیخ پر درج ذیل کے الفاظ میں کندہ ہے۔دے۔ر حسین بی بی والدہ آنریبل سر چوہدری محمد ظفر اللہ خاں ڈسکہ ضلع سیالکوٹ آپ نے ۲۵/۲/۱۵ کو وصیت کی۔آپ کا وصیت نمبر ۸۷۰ ہے۔آپ کی جائیداد مالیتی چار ہزار روپیتھی۔اور چودہ صد دس روپیہ حصہ جائیداد کے طور پر ادا ئیگی ہوئی۔( فائل وصیت ) الفضل ۱۱/۶/۳۸۔مرحومہ کے اپنے خاوند سے پہلے قبول احمدیت اور توہمات و شرک کے واقعات عدم تکرار کی خاطر یہاں درج نہیں کئے گئے۔