اصحاب احمد (جلد 11) — Page 152
152 طور پر بیمار ہو گئیں۔ڈاکٹری رائے یہ تھی کہ اگر فوری طور پر ہسپتال میں داخل نہ کیا گیا تو زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی۔والدہ محترمہ چوہدری صاحب کو علم ہوا تو بیٹی اور بہو سمیت میرے ہاں تشریف لائیں اور ہمیں تسلی دی اور کہا۔اللہ خیر کرے گا۔میں نے دعا کی ہے اور ہسپتال نہ جاؤ۔اور ڈیڑھ گھنٹہ تک میری بیوی کے سرہانے بیٹھی رہیں۔اللہ تعالیٰ کی قدرت جوخون ہر چند علاج سے بند نہ ہوا تھا۔اس زاہدہ خاتون کی موجودگی میں ہی ان کی دعا سے بند ہوگیا۔پھر مرحومہ شام کو واپس تشریف لے گئیں اور فرما گئیں کہ میں رات کو بھی دعا کروں گی۔مجھے صبح اطلاع دی جائے۔اور برابر اطلاع منگواتی رہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلد ہی صحت ہوگئی۔(الفضل قادیان یکم جون ۱۹۲۸ء ) محتر مه سیده فضیلت صاحبہ سیالکوٹ تحریر فرماتی ہیں: آہ اب چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب کی والدہ صاحبہ کی وفات نے ہمارے زخموں کو ہرا کر دیا ہے جو کہ احمدیت کے اس دورِ مصائب میں دردمندانہ دعائیں کر کے خدا تعالیٰ سے بشارات پایا کرتی تھیں۔وہ زہد و تقوی اور خشیت الہی سے معمور۔عجز وانکساری کا مجسمہ اور احسان واخلاق کا عملی نمونہ تھیں۔” میری اور مرحومہ مغفورہ کی پہلی ملاقات غالبا دسمبر ۱۹۲۶ء کے جلسہ میں ہوئی۔خدا کے فضل سے مجھے تقریر کا موقعہ ملا۔تقریر کے بعد آپ نے مجھے سینہ لگایا اور میرے ہاتھ کو بوسہ دیا۔اس کے بعد وہ ہمیشہ اسی طریق سے ملتیں۔ان کے اس سلوک سے میں شرمسار ہو جاتی اور حیران ہو جاتی کہ یہ اپنے مقام تقدس سے کس قدر بے خبر ہیں۔وہ اکثر مجھے اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتیں۔گذشتہ رمضان میں غریب خانہ پر تشریف لائیں اور دیر تک اپنی روح پرور گفتگو سے مسرور کرتی رہیں۔گذشتہ سال ڈسکہ میں انجمن نے جلسہ مستورات کا انتظام کیا اور خاکسارہ کو مدعو کیا تو اتفاقاً ہمارے ڈسکہ پہنچنے تک موسلا دھار بارش نے راستہ بہت خراب کر دیا۔نئے ڈسکہ سے پرانے ڈسکہ میں چوہدری صاحب کے مکان تک پہنچنا بہت مشکل ہو گیا۔اڈہ سے تھوڑی دور جا کر ہمارا ٹانگہ کیچڑ میں ایسا پھنسا کہ اس کے لئے نکلنا مشکل ہو گیا۔اسی اثناء میں کسی نے کہا کہ دوسرے گاؤں کی عورتیں جلسہ میں شریک ہونے کے لئے آ رہی ہیں۔معلوم ہوا کہ متضمین نے جلسہ کا انتظام تو نئے ڈسکہ میں کر رکھا ہے۔مگر ہمیں چوہدری صاحب کی والدہ صاحبہ کے ارشاد کی تعمیل میں پرانے ڈسکہ لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔میں نے کہا جب ہمیں پھر یہیں واپس آنا ہے تو اس کشمکش سے کیا منتظر