اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 87 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 87

87 ہاتھ پر بیعت کی تھی اور بیعت کے بعد اخلاص اور محبت میں ان کا قدم روز بروز بڑھتا گیا۔آپ نے ۱۹۱۷ ء میں وکالت کے کام کو جسے آپ نے نہایت ناموری اور نیک نامی کے ساتھ انجام دیا۔قطعاً چھوڑ دیا اور ہمہ تن خدمت دین میں مصروف ہو گئے۔قادیان تشریف لانے پر ایک طرف آپ کو نظارتوں کے ناظر خاص کے فرائض سپرد کئے گئے اور دوسری طرف آپ صدرانجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ بنائے گئے۔آخر جب دونوں صیغوں کو اکٹھا کر دیا گیا تو آپ سب سے پہلے ناظر اعلیٰ مقرر ہوئے اور آپ نے اس منصب کے اہم فرائض کو نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔آپ نے سلسلہ کی گراں قدر خدمات آنریری طور پر سر انجام دینے میں پہلی مثال قائم کی۔اور اس کے ساتھ ہی آپ مالی طور پر بھی بڑی بڑی رقوم کے ساتھ سلسلہ کی امداد کرتے رہتے تھے۔آپ کو تلاوت قرآن کریم کا اس قدر شوق تھا کہ آخری عمر میں جبکہ عموماً قویٰ کمزور ہو جاتے ، دماغی طاقت گھٹ جاتی اور انسان فطرتا آرام کا محتاج ہو جاتا ہے ، سارا قرآن کریم حفظ کر لیا۔آپ مع اپنی اہلیہ محترمہ کے حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی بہرہ اندوز ہو چکے تھے۔نظارت اعلیٰ کی خدمات کے علاوہ آپ نے علمی خدمات کا بھی ایک قابلِ قدر سلسلہ شروع کیا تھا اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے انڈکس تیار کرتے رہے۔چنانچہ بعض کتب جو حال میں شائع ہوئی ہیں ، ان کی ابتداء میں آپ کے تیار کردہ انڈکس موجود ہیں۔اور احباب ان سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کس قدر ضروری اور اہم کام ہے۔آپ مرض ذات الجنب سے فوت ہوئے ہیں۔دراصل بیماری کا حملہ آپ پر قادیان میں ہی ہوا تھا۔مگر وطن جانے پر درمیان میں آپ کو افاقہ ہو گیا مگر بعد ازاں یکدم طبیعت بگڑ گئی اور پھر سنبھل نہ سکی۔آپ کا جنازہ لاہور سے بذریعہ موثر قادیان لایا گیا جو بروز جمعہ تقریباً 9 بجے صبح یہاں پہنچ گیا۔جنازہ کے ہمراہ آپ کے فرزندانِ رشید چودھری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹر ایٹ لاء، چودھری شکر اللہ خاں صاحب ، چودھری عبداللہ خاں صاحب اور چودھری اسد اللہ خاں صاحب کے علاوہ آپ کی اہلیہ محترمہ۔آپ کی بیٹی، آپ کی بہو ، آپ کا بھائی۔آپ کے بھانجے اور آپ کے بعض دیگر رشتہ دار بھی آئے۔جناب چودھری صاحب مرحوم نے اپنے ایام علالت میں یہ خواہش ظاہر فرمائی تھی کہ میرا جنازہ