اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 83 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 83

83 تھوڑی دیر کے بعد اپنا ہاتھ آزاد کر کے خاکسار کی ران پر رکھ دیا اور کہا: ”میاں میں اسے یہاں 66 رکھنا چاہتا ہوں۔“ وفات: چونکہ ہم سب کو تو والدہ صاحبہ کے خواب کا علم تھا۔ہم جانتے تھے کہ اب یہ آخری گھڑیاں ہیں۔اور دل میں بہت حسرت تھی کہ کوئی بات کر لیں۔اس لئے میں کوئی نہ کوئی بات کرتا جاتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے ان کے کان میں کہا۔”مجھے آپ سے اس قدر محبت ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی تکلیف میں لے لوں۔اس پر والد صاحب نے اپنا بازو میری گردن کے گرد ڈال کر میرے چہرہ کو اپنے چہرہ کے قریب کر لیا اور میرے کان میں کہا۔ایسی خواہش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ہر ایک اپنی اپنی باری پر۔“ وو تھوڑے وقفہ کے بعد میں نے کہا۔آپ کو یا د ہے۔یہ کس موقعہ کا شعر ہے: كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ فرمایا ہاں یاد ہے۔حسان ابن ثابت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا تھا۔” جب کھانے کا وقت ہوا۔تو باصرار تمام مہمانوں سے کہا۔جاؤ اور کھانا کھاؤ۔جب بعض نے تامل کیا تو والد صاحب نے پھر اصرار کیا اور کہا ملازم انتظار کرتے رہیں گے انہیں بھی فارغ کرنا چاہیئے۔ابھی مہمان کھانا کھا رہے تھے ، تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے والد پسند کریں تو ان کا پلنگ مردانہ صحن میں لے چلیں۔وہ زیادہ فراخ اور ہوا دار ہے۔اور یہ اکثر وہیں سویا کرتے تھے۔میں نے والد صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا ”ہاں لے چلو۔میں نے کہا۔” کیا وہ صحن آپ کو زیادہ پسند ہے؟ تو والدہ صاحبہ نے کہا کہ وہ تو فوت بھی ہو چکے ہیں ! اور یوں وہ اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔چنانچہ دیکھا تو فوت ہو چکے تھے۔والدہ صاحبہ نے کلمہ شریف پڑھا اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہا اور دعا کی۔یا اللہ اپنے وو