اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 76 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 76

76 گئی۔نواب ، وکلاء، ایڈیٹر، گریجویٹ احمدی اپنے خرچ پر جاتے تھے اور انہوں نے بے نفسی اور اولوالعزمی اور اطاعت کی ایک مثال قائم کر دکھائی۔اور ہزار ہا افراد کو شدھی کے چنگل سے محفوظ کرنے کا باعث بنے۔اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ میں ادنیٰ کہلانے والی اقوام کے متعلق ایک نیک رو چل گئی۔مسلمانوں میں اپنے اقتصادی مقاطعہ کا حل سوچنے کی طرف توجہ ہوئی۔مسلمان شرفاء اور بیدار مغز طبقہ پر واضح ہو گیا کہ مسلمانوں پر مصیبت کی گھڑی آجائے تو جماعت احمد یہ اسے اپنی مصیبت یقین کرتی ہے اور کسی قسم کی غیریت اور اجنبیت محسوس نہیں کرتی۔اور کمال بے جگری سے مقابلہ کے لئے میدان میں کود پڑتی ہے۔اور یہ بھی جان لیا کہ ے دین ملا فی سبیل اللہ فساد (اقبال) اور یہ بھی جان لیا کہ جماعت احمد یہ مال ، وقت اور جان کی قربانی کرنے میں بے مثال ہے۔اس کے افراد مذہبی واقفیت رکھتے ہیں۔چنانچہ اخبار مشرق رقمطراز ہے۔: ”میدان فتنہ ارتداد میں احمدی جماعت اور سنی جماعت کے درمیان جنگ جاری ہوگئی ہے۔۔۔ہم نے پہلی اشاعت میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ ہر طبقہ اور فرقہ کے مسلمان میدانِ ارتداد میں پہنچ کر خدمتِ اسلام انجام دیں گے۔لیکن احمدی جماعت کا ایثار بہت نظر آئے گا۔ہوا کچھ ایسا ہی کہ آنے جانے والوں سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں نے بہت زیادہ ایثار نفس کی مثالیں قائم کیں اور کہنے والے یہی مولوی ، قادری چشتی ، صوفی ہی بزرگ ہیں۔الْاِسْتَقَامَهُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ کا ایسا جذبہ جماعت احمدیہ نے اپنے اولوالعزم امام (ایده اللہ تعالی ) کی زیر قیادت پیش کیا کہ شدید معاندین کی روحیں بھی وجد میں آگئیں۔اور وہ بے اختیار کلمہ حق کہنے پر مجبور ہوئے۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب صدر مجلس احرار نے لکھا کہ : آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسدِ بے جان تھا۔جس میں تبلیغی حس مفقود ہو چکی تھی۔سوامی دیانند کی مذہب اسلام کے متعلق بدظنی نے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا۔مگر حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہوگئی۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب