اصحاب احمد (جلد 11) — Page 59
59 جائے۔تا احباب ایسے لوگوں کے جال میں نہ پھنس سکیں اور محفوظ رہیں۔سیالکوٹ سے قادیان کو ہجرت : حضرت چوہدری صاحب صدر جماعت سیالکوٹ تھے۔مضافات کی جماعتیں بھی شہر کی جماعت کے ساتھ ملحق تھیں اور آپ ان میں دورہ بھی کرتے تھے۔اور شہر ومضافات کی تنظیم کی تقویت کا باعث تھے۔حضرت میر حامد شاہ صاحب کی وفات اور حضرت چوہدری صاحب کے وہاں سے منتقل ہونے پر بہت زیادہ خلا محسوس کیا گیا اور جماعت شہر اپنے تئیں بے آسرا سمجھنے لگی۔آپ صدرا انجمن احمد یہ ۱۹۱۰-۱ ء ۱۲۰-۱۹۱۱ ء سالوں میں سیالکوٹ سے قریباً چودہ ہزار تین صد روپیہ چندہ مرکز میں وصول ہوا۔مقامی ضروریات کیلئے دوسرے سال قریباً آٹھ صد روپیہ جمع ہوا۔مقامی فنڈ میں گذشتہ سال کا بقایا قریباً پونے چھ صد روپیہ موجود تھا۔مقامی ضروریات پر اس سال ایک ہزار روپیہ صرف کیا گیا۔مقامی فنڈ کرایہ مکانات اور آٹا فنڈ کے علاوہ ختنہ۔ترقی تنخواہ۔ولادت شادی وغیرہ کی تقاریب پر وصول کیا جاتا تھا۔چوہدری نصر اللہ خاں صاحب نے دورہ کر کے شاخوں کے حساب و کتاب کی پڑتال کی۔نقائص دُور کرنے کے لئے ہدایات دیں تا حساب با قاعدہ رکھا جائے۔قواعد کے مطابق کارروائی کرنے پر دو سال قبل اس انجمن کو یہ سرٹیفیکیٹ ملا تھا، گویا مران مجلس معتمدین کے انتخاب کے وقت یہ انجمن رائے دینے کا حق رکھتی تھی۔اس ضلع میں یہ بھی بڑی خوبی کی بات ہے کہ کوئی شاخ براہ راست روپیہ نہیں بھیجتی ۲۸ جلسے اس سال خاص و عام ہوئے۔یہ بھی مرقوم ہے کہ انجمن احمد یہ ضلع سیالکوٹ اپنے نظم اندرونِ ضلع کے لحاظ سے تمام جماعتوں میں اول درجہ رکھتی ہے۔اور گذشتہ سال ایک لاکھ کے مستقل فنڈ میں سے ایک چوتھائی کی فراہمی کا وعدہ اس جماعت نے کیا تھا۔(ص ۸۵) اس انجمن کی طرف سے قریباً پونے تین ہزار روپیہ چندہ برائے تعمیر مدرسہ تعلیم الاسلام مرکز میں وصول ہوا۔( ریویو آف ریلیچنز ( اردو ) بابت اکتوبر ۱۹۱۲ء۔ریویو با بت مئی ۱۹۱۳ء میں مرقوم ہے کہ حسب فیصلہ ( کہ باہر کی انجمنوں کے رجسٹرات حساب منگوا کر پڑتال کی جایا کرے) تین انجمنوں کے رجسٹرات منگوائے گئے۔ان میں سے دو کے حسابات درست تھے۔ان دو میں سے ایک انجمن سیالکوٹ کا حساب تھا۔(صفحہ ۱۹۴) جلسہ سالانہ ۱۹۱۱ء میں حضرت میر حامد شاہ صاحب ہی نے یہ تحریک مستقل فنڈ کی فرمائی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر دیگر جماعتیں پون لاکھ جمع کر دیں تو