اصحاب احمد (جلد 11) — Page 58
58 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک رؤیا کی بناء پر ہر قسم کا چندہ میری معرفت بھیجیں۔مجلس شوری کی ایسی صورت ہو کہ ساری جماعت کا اس میں مشورہ ہو۔فی الحال دو تین علماء بطور ممبر انجمن میں زائد کئے جائیں تا کہ اختلاف کی وجہ سے وقتیں نہ ہوں۔یہ اجلاس مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کی صدارت میں ہوا۔اس میں ایک یہ فیصلہ ہوا کہ : قواعد صدر انجمن کی دفعہ ۱۸ میں الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جگہ حضرت خلیفة المسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی درج کئے جائیں۔باتفاق آراء قرار پایا کہ یہ ریزولیوشن بخدمت مجلس معتمدین بذریعہ نواب محمد علی خان صاحب۔سید محمد احسن صاحب۔مرزا بشیر احمد صاحب۔خلیفہ رشید الدین صاحب۔مولوی شیر علی صاحب پیش کرائے جائیں اور ان حضرات کی خدمت میں نہایت ادب سے التماس کی جائے کہ اس درخواست کو بہت جلد آئندہ کے اجلاس میں پیش کرانے کا انتظام فرماویں۔بنظر احتیاط حضور نے پسند فرمایا کہ اس شوریٰ کی تمام کا رروائی بالخصوص قاعدہ نمبر ۱۸ کی ترمیم اپنی اپنی جماعتوں میں سُنا کر ان کے فیصلے سے اطلاع دیں۔چنانچہ اس قاعدہ کی تبدیلی کے متعلق چھیاسٹھ جماعتوں کے نمائندگان نے احباب کے دستخطوں سے درخواستیں بھجوا دیں۔یہ جماعت کے قریباً ۳٫۴ کی آواز تھی۔چنانچہ مجلس معتمدین نے جماعت کی اس درخواست کو اپنے ۲۶ اپریل کے اجلاس میں منظور کر کے فیصلہ کیا کہ ہر ایک معاملہ میں مجلس معتمدین اور اس کی ماتحت مجلس با مجالس اگر کوئی ہوں، اور صدر انجمن احمد یہ اور اس کی کل شاخہائے کے لئے حضرت خلیفہ امسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی کا حکم قطعی اور ناطق ہوگا۔“ موجودہ حالات میں نئی پود اس ساری کارروائی کو اچھنبا سمجھے گی۔لیکن جیسا کہ میں قبل ازیں ذکر کر چکا ہوں۔غیر مبائعین سرکردہ افراد اپنے اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال کر رہے تھے اور یہ ضروری تھا کہ نہ صرف جماعتوں کے عہدیداروں بلکہ عام افراد پر ان کی فاش غلطی واضح کی سرورق منصب خلافت۔الحکم ۲۱/۴/۱۴ میں ان ایک صد تنوے نمائندگان کے اسمائے گرامی میں نمبر پر آپ کا نام نامی ” چوہدری نصر اللہ خاں صاحب پلیڈر، پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ۔( یعنی سیالکوٹ ) مرقوم ہے۔اس اجلاس کی زیادہ تفصیل اصحاب احمد جلد دوم ص ۳۷۶ تا ۳۷۸) بلکه منصب خلافت میں قابل مطالعہ ہے۔