اصحاب احمد (جلد 11) — Page 57
57 ۳۷ منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی کے بیان سے بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چوہدری صاحب اور میر حامد شاہ صاحب کی بیعت سے رکنے کی وجہ سے جماعت سیالکوٹ بھی رکی رہی تھی۔ان بیانات اور حضور کے مکتوب سے ظاہر و با ہر امر ہے کہ اس وقت سیالکوٹ کی جماعت خصوصاً کیسے نازک دور میں سے گذر رہی تھی۔اور حضرت چوہدری صاحب اور حضرت میر حامد شاہ صاحب کا بیعت سے رکے رہنا کس رنگ میں اثر انداز ہو رہا تھا۔اسی لئے حضور نے ان دونوں کے لئے خاص طور پر دُعا بھی فرمائی تھی۔اور اللہ تعالیٰ نے دُعا کو قبول فرمایا۔پہلے چوہدری صاحب کو چنا اور اُن کو انشراح صدر مرحمت کیا۔اور بقول حضرت عرفانی صاحب ( جو دوسری جگہ درج ہے) چوہدری صاحب کے ذریعہ جماعت سیالکوٹ کا احیاء عمل میں آیا۔پہلی ہنگامی شوری: خلافت ثانیہ کے قیام کے جلد بعد ضروری مشورہ کے لئے ۱۲ را پریل ۱۹۱۴ء کو خلافت ثانیہ کی پہلی مشاورت مدعو کی گئی۔جس میں حضرت چوہدری صاحب نے بھی شرکت کی تھی۔تمام جماعتوں کو دودو نمائندے منتخب کر کے بھجوانے کی اطلاع دی گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس روز ایک ایمان افروز تقریر میں انبیاء اور ان کی قائم مقامی میں خلفاء کا کام بتایا اور یہ بھی بتایا کہ حضرت خلیفہ اول کی آخری وصیت اس کی تشریح تھی۔نیز اس قسم کے اعتراضات کے شافی جواب بیان فرمائے کہ خلیفہ صاحب مشورہ کے پابند نہیں۔اس لئے مشورہ کا کیا فائدہ۔انجمن کا حق غصب کیا ہے۔یہ لوگ شیعہ ہیں۔یہ پیر پرستی ہے، خلیفہ کی عمر چھوٹی ہے۔اس نے کیا خدمت کی ہے۔اگر خلیفے نہ ہوں تو کیا مسلمانوں کو نجات نہ ہوگی۔جب مسلمانوں میں خلافت نہ رہی تھی تو اس وقت مسلمانوں کا کیا حال تھا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ جو تبلیغ کو وسعت دے کر تمام زبانوں کے جاننے والے مبلغ تیار کرنا اور ہندوستان میں تبلیغ کا جال پھیلانا اور دنیوی ترقی کے لئے اپنا کالج قائم کرنا چاہتے تھے ، اس کا ذکر فرمایا۔یہ اس بارہ میں مشورہ طلب کیا کہ چونکہ انجمن کے بعض ممبروں نے بیعت خلافت نہیں کی ، اس لئے انتظام میں وقتیں پیش آتی ہیں۔کیونکہ وہ ممبر سمجھتے ہیں کہ انجمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جانشین ہے اور خلیفہ کے ماتحت نہیں ہے۔حضور نے غور کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں کہ