اصحاب احمد (جلد 11) — Page 28
28 ( چوتھے ماہ ) دوسرا ر یا والدہ صاحبہ نے یہ دیکھا کہ صبح چار بجے کے قریب مکہ معظمہ جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔اور یوں محسوس کیا ہے کہ اُس وقت سفر شروع کیا ہے۔اور سہ پہر کے چار بجے کے قریب دیکھا کہ یکہ جس میں سوار ہیں ، ایک بڑ کے درخت کے قریب کھڑا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے یکہ بان سے کہا کہ میں تو مکہ جانا چاہتی ہوں۔اُس نے کہا۔یہی مکہ ہے جہاں آپ پہنچ گئی ہیں۔فرماتی تھیں میں حیران ہوئی کہ اس قدر جلد مکہ کیسے پہنچ گئی۔فجر کے وقت سفر شروع کیا تھا اور عصر کے وقت ختم ہو گیا۔اس حیرانی میں میں یکہ سے اتر کر ایک بازار سے گذر کر ایک گلی میں سے ہوتی ہوئی ایک مکان میں داخل ہوئی اور پہلی منزل پر چلی گئی۔وہاں دیکھا کہ صحن میں ایک تخت پوش بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک ضخیم کتاب رجسٹر کی طرز کی رکھی ہوئی ہے اور ساتھ ایک بکس ہے۔جس کے اُوپر کے ڈھکنے میں ایک سوراخ ہے۔میں نے اُس سوراخ کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اور اپنا منہ اس سوراخ کے قریب کر کے تین بار بلند آواز سے کہا۔'یا اللہ میرے گناہ بخش۔“ اور پھر خود ہی دریافت کیا۔( یا رب العالمین ! ) '' بخشو گے؟ تو بلند آواز سے جواب ملا : میں صاحب بخشش ہوں بخشوں گا اگر تمہارا نام اس رجسٹر میں درج ہوا تو “ میں نے خواب میں خیال کیا کہ شاید یہ رجسٹر پیدائش اور اموات کے اندراجات کا ہے اور فکر کرنے لگی کہ معلوم نہیں چوکیدار نے میری پیدائش کے وقت میرا نام درج کرایا تھا یا نہیں۔پھر میری نیند کھل گئی۔” یہ ردیاد یکھنے کے تھوڑا عرصہ بعد والدہ صاحبہ دا تا زید کا تشریف لے گئیں۔اور وہاں اس رؤیا کا ذکر کرنے پر ہمارے نانا صاحب نے فرمایا کہ تم نے یہ قادیان کا نظارہ دیکھا ہے تمہیں چاہیئے کہ حضرت میرزا صاحب کی بیعت کر لو۔والدہ صاحبہ نے کہا کہ جس بزرگ کا آپ ذکر کرتے ہیں۔اگر وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور مجھے ان کی زیارت نصیب کرے گا۔اور اُن کی صداقت مجھ پر کھول دے گا۔سیالکوٹ واپس آئے ( تو نا نا صاحب کی اوپر کی گفتگو کے تین دن ) بعد انہوں نے پھر ایک یہ ساری گفتگو پنجابی میں ہوئی۔الحکم میں وہ پنجابی الفاظ درج ہیں اسی طرح بعد کی خواب کے پنجابی الفاظ بھی جن کی سادگی سے گہرا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ واقعی یہ خواہیں ہر تصنع سے دُور اور حقیقت سے معمور ہیں۔