اصحاب احمد (جلد 11) — Page 374
374 بیسیوں تحریکیں اپنی خلافت کے زمانہ میں کی ہیں مگر کئی امراء اور علماء ہماری جماعت کے ایسے ہیں کہ انہوں نے ان میں بہت ہی کم حصہ لیا ہے۔اسلئے جو امراء تحریکات میں حصہ لیتے ہیں۔ان کو بھی میں غرباء میں ہی شامل کرتا ہوں کیونکہ وہ دل کے غریب ہیں۔تحدیث نعمت کے طور پر میں چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کی اکثر اولاد بالخصوص چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے آج تک کوئی تحریک ایسی نہیں کی جس میں انہوں نے حصہ نہ لیا ہو۔خواہ وہ تحریک علمی تھی یا جسمانی یا مالی یا سلوک کی خدمت کی تھی۔انہوں نے فوراً اپنا نام اس میں پیش کیا اور پھر خلوص کے ساتھ اسے نباہا۔جب میں نے ریز روفنڈ کی تحریک کی تھی تو کئی لوگوں نے اپنے نام دیئے۔مگر ان میں سے صرف چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ہی ہیں جنہوں نے اسے پوری طرح نباہا اور ہزاروں روپیہ جمع کر کے دیا۔حالانکہ اس وقت ان کی پوزیشن ایسی نہ تھی جیسی اب ہے کہ کوئی خیال کرے کہ اپنے اثر سے روپیہ جمع کر لیا ہو گا۔چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم گو۱۹۰۰ء کے بعد داخل سلسلہ ہوئے مگر انہوں نے اخلاص کا بہت نیک نمونہ دکھایا اور وہی نمونہ کم و بیش ان کی اولاد میں بھی ہے اور انکی اہلیہ میں بھی اخلاص کا وہ نیک نمونہ ہے بلکہ وہ صاحب کشوف بھی ہیں۔ان کو ہمیشہ سچے خواب آتے رہتے ہیں۔مجھے ان کی اولاد سے اسلئے بھی محبت ہے کہ جب میں نے آواز دی کہ جولوگ اپنے گزارا کے لئے کافی روپیہ کما چکے ہوں وہ اب اپنا بڑھاپا دین کے لئے وقف کر دیں تو چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم نے اس پر لبیک کہا اور نہایت اخلاص سے صدر انجمن احمد یہ میں کام کرتے رہے اور وفا داری اور فرمانبرداری سے کام کیا۔ان کو چونکہ میرے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔اسلئے مجھے ان کی قدر ہے۔اور ان کی اولاد نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے باپ کیلئے بھی مجھے پیاری ہے اور اب کہ ان کا ذکر آیا ہے۔میں ان کی اولاد کے لئے دعا کرتا ہوں کہ ان کے دل کا متاع کبھی ضائع نہ ہو۔اگر اللہ تعالیٰ انہیں دنیا کی نعمتیں دے تو یہ اس کا فضل ہے۔لیکن ان کے