اصحاب احمد (جلد 11) — Page 370
370 درمیانی رات کو انتقال ہو گیا ہے۔إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔چوہدری صاحب مجلس معتمدین کے ناظر اعلیٰ تھے۔ضروری ہے کہ مجلس کی طرف سے ان کی وفات پر اظہار رنج و غم اور آپ کے ورثاء سے تعزیت کا ریزولیوشن پاس کیا جائے۔مجلس میں پیش ہو کر پاس ہوا کہ : مجلس معتمدین حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ سابق ناظر اعلیٰ جماعت احمدیہ قادیان کی وفات حسرت آیات پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔اور مرحوم و مغفور کے پسماندگان کے ساتھ اس صدمہ جا نگاہ کے سبب رنج و غم میں اظہار شرکت و دلی ہمدردی کرتی ہے۔چوہدری صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمات سلسلہ جو باوجود پیرانہ سالی اور امراض کے وہ بحیثیت ناظر اعلیٰ بجالاتے رہے ہیں۔ایسی ہیں کہ ان کی وفات کو یہ مجلس ایک قومی صدمہ بجھتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور انکے صاحبزادگان کو اپنے والد بزرگوار سے زیادہ خدمت اسلام کی توفیق بخشے۔آمین۔نمبر ونقل ریز ولویشن بخدمت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹر ایٹ لاء خلف اکبر چوہدری صاحب مرحوم و مغفور و تمام اخبارات سلسله و دیگر اخبارات کو بغرض اشاعت بھیجی جائے۔خاکسار شیر علی قائم مقام ناظر اعلی۔قادیان بقیہ حاشیہ: اعزاز ساتھ ساتھ رہیں گے۔گویا خاتمة بالخیر کا مردہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زبان مبارک سے بھی یہ بشارت دلوا دی ہے۔اے اللہ ! تو ایسا ہی کر آمین۔عنفوان شباب میں لندن میں قیام کے دوران میں حضرت یوسف کی طرح آپ نے تقویٰ سے زندگی بسر کی۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اس کی شہادت دی تھی اور لکھا تھا:۔لندن شہر اس وقت زیب و زینت اور دلکشی میں مصر سے بڑھا ہوا ہے لیکن چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح تقویٰ اور طہارت کا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔“ ( حیات قدسی حصہ پنجم صفحه۱۰۰)