اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 361 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 361

361 کیا پیاری زبان تھی۔یہ تو اٹھارہویں صدی کی زبان تھی۔آج کل کی بازاری زبان نہ تھی۔“ ایک بڑھے انگریز نے چوہدری صاحب سے آکر کہا : میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔میں بڑھا ہوں۔کچھ بہرہ بھی ہوں اور بیٹھا بھی سب سے اخیر پر تھا مگر آپ کے مضمون کا ایک ایک لفظ مجھے سنائی دیا ہے اور سمجھ میں آیا ہے۔“ چوہدری صاحب نے کہا۔میں اہل زبان نہیں ہوں مجھے اندیشہ تھا کہ شاید میرا لہجہ نہ سمجھ آسکے گا۔انگریز نے کہا نہیں۔آپ نے نہایت خوبی سے مضمون پڑھا ہے اور نہایت اچھی طرح سے ہر ایک کی سمجھ میں آیا ہے۔“ " مسز شار پلز کہ وہ بھی اس کا نفرنس کی سیکرٹری ہے۔اس نے چوہدری صاحب سے کہا۔کیا ترجمہ بھی آپ ہی کا کیا ہوا ہے۔جواب اثبات میں پا کر کہا۔میں آپ کو مبارکباد دیتی ہوں کہ لوگ آپ کے بڑے مشکور ہیں کیا بلحاظ زبان کے اور کیا بلحاظ پڑھنے کے۔“ * سفر یورپ ۱۹۵۵ء ۱۹۵۵ء میں بھی چوہدری صاحب کو حضور کے سفر مشق اور یورپ کے اکثر حصہ میں معیت ور فاقت و خدمت کا موقعہ ملا۔اور چوہدری صاحب نے بھی سفر یورپ کا مشورہ دیا تھا * اور کراچی سے چوہدری صاحب رفقاء سفر میں شامل تھے اور دمشق میں مسیح کے دوفرشتوں کے ساتھ اترنے کی الفضل ۱۹۲۴-۱۰-۲۳ - رپورٹ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی۔محترم چوہدری صاحب کو اس سفر یورپ میں خدمات کے مزید مواقع بھی حاصل ہوئے جن میں سے بعض کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے: مولا نا عبدالرحیم صاحب نیئر رضی اللہ عنہ نے ۱۹۲۴۔۱۰۔ےکو ایک ایٹ ہوم دیا جسمیں ایک کثیر تعداد انگریزوں اور ہندوستانیوں کی نیز سفارت ترکیہ کے ارکان مدعو تھے اور افتتاحی تقریر بھی