اصحاب احمد (جلد 11) — Page 362
362 پیشگوئی دوسری بار اس سفر میں پوری ہوئی اور ان دو فرشتوں میں سے ایک چوہدری صاحب محترم تھے۔وَذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ - چوہدری صاحب کے خلوص کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔فَالْحَمْدُ لله عَلیٰ ذَالِک۔حضور نے ایک پیغام میں چوہدری صاحب کے اخلاص کی بقیہ حاشیہ:- نیئر صاحب نے کی۔حضور سے عرض کیا گیا کہ اپنا پیغام اہل یورپ کو پہنچائیں۔مکرم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے حضرت اقدس کا پیغام نہایت قابلیت سے پڑھ کر سنایا۔(الفضل ۲۴۔۱۰۔۷ مکتوب حضرت عرفانی صاحب) ۱۴-۹-۱۹۲۴ کو پورٹ سمتھ میں دو تقریریں ہونی تھیں۔چنانچہ حضرت عرفانی صاحب رقم فرماتے ہیں: آج (۲۴۔۱۳۹ کو ) حضرت نے پورٹ سمتھ کے لئے لیکچر لکھنا شروع کیا۔حضرت لکھتے جاتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اس کا ترجمہ کرتے جاتے تھے اور رات کے بارہ بجے تک ترجمہ اور ٹائپ کا کام ختم ہو گیا۔یہ ۲۸ صفحہ کا مضمون ہے۔(۱۴ کو ) واٹرلونا می سٹیشن سے سوار ہوئے اس سفر میں حضرت کی ہمرکابی کی عزت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ، مولوی رحیم بخش صاحب ، مولوی محمد دین صاحب، ڈاکٹر صاحب۔اور خادم عرفانی کو حاصل تھی۔رات کو وہاں قیام رہا۔“ ( ۲۴-۱۰-۱۴) حضرت اقدس کا خیال یہ تھا کہ میں تھوڑا سا حصہ پڑھ کر چوہدری ظفر اللہ صاحب کو دیدوں گا۔مگر جب وقت آیا تو آپ نے ہی اس کو ختم کیا۔۔۔( اس میں ابتدا میں فرمایا ) میری انگریزی بولنے کی عمر صرف ایک ماہ ہے۔میرا یہ طریق ہے کہ میں اپنا لیکچر اُردو میں لکھتا ہوں اور اسے میرا ایک بھائی اور مرید انگریزی میں ترجمہ کرتا ہے اور وہی اسے پڑھ دیتا ہے۔“ پھر کھانا ہوا اور وہاں کے طریق کے مطابق اسکے بعد تقریروں کا بھی تبادلہ ہوتا ہے۔چنانچہ مسٹرا یبٹ نے حضور کا شکر یہ ادا کیا۔مرقوم ہے کہ: چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ( جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام کی لسان بنا دیا ہے اور اکثر موقعوں پر یہ مایہ ناز