اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 25 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 25

25 25 داخل ہوئے۔مولوی کرم الدین صاحب بھیں کے ساتھ مقدمات کا ایک سلسلہ عرصہ سے جاری تھا۔اور کل پنجاب میں ان مقدمات کی وجہ سے ایک عام ہیجان مخالفت تھا۔احمدیوں کو ہر طرح سے تکلیف دی جارہی تھی۔اور خطرناک طوفانِ بے تمیزی برپا کیا ہوا تھا۔سیالکوٹ کا ضلع خصوصیت سے اس مخالفت میں حصہ لے رہا تھا۔جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب کی مخالفانہ سرگرمیاں زوروں پر تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے اپنی مخالفت کا اظہار جن شرمناک کرتوتوں سے کیا ، وہ عام اخلاق کے چہرہ پر بھی ہمیشہ بد نما داغ رہیگا۔چہ جائیکہ اس میں اسلامی غیرت اور حقیقت کا کوئی اثر ہو۔ایسے زمانہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونا کوئی معمولی امر نہ تھا۔اور ایسے شخص کے لئے جو ہندو مسلمانوں میں نہایت عزت واکرام سے دیکھا جاتا ہو۔اور جس کا پیشہ بجائے خود اس قسم کی مخالفانہ تحریک میں سخت خطرہ میں ہو۔یہ آسان امر نہ تھا۔مگر چوہدری صاحب نے عین اس طوفانِ بے تمیزی میں سلسلہ حقہ کو علی الاعلان قبول کیا۔سب سے اوّل وہ مقدمات گورداسپور میں بہ حیثیت گواہ صفائی پیش ہوئے اس وقت تک وہ احمدی نہ تھے۔اور مقدمات میں ایک وکیل کی حیثیت سے وہ بخوبی سمجھ سکتے تھے کہ دیانت داری اور مومنا نہ اصول کی کہاں تک پر واہ کی جاسکتی ہے۔اور خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ انہیں شہادت صفائی کے لئے طلب کیا گیا تھا۔انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس پاک فطرت کو لیکر آئے ہیں۔اگر چہ چوہدری صاحب ایسی پوزیشن کے آدمی سے یہ توقع ہی نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ کوئی بات خلاف ایمان و علم کہیں لیکن سب سے بڑی بات جس نے اُن کے قلب پر اثر کیا وہ یہ تھی کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ان کو نہیں کہا گیا کہ ان کی شہادت کیا ہے کیا نہیں۔ان کے دریافت کرنے پر یہی کہہ دیا گیا تھا کہ بعض الفاظ کے معانی اور مطالب کے متعلق آپ کی شہادت ہوگی۔جو کچھ آپ کے علم میں ہو، آپ اُس کو بیان کر دیں۔چوہدری صاحب پر قدرتاً اس طریق تقوی کا ایک گہرا اثر ہوا۔از مؤلف اصحاب احمد ) حضور علیہ السلام کی طرف سے دو در جن گواہان صفائی کی فہرست دی گئی تھی۔رائے آتما رام مجسٹریٹ نے دس گواہان ۷ تا ۱۲ ستمبر ۱۹۰۴ء کیلئے طلب کئے۔ان میں ” چوہدری نصر اللہ خاں صاحب پلیڈ رسیالکوٹ“ کا نام بھی شامل ہونے کا ذکر الحکم مورخہ ۲۴،۱۷ را گست ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ پر ہے۔