اصحاب احمد (جلد 11) — Page 340
340 تو انہیں فتح حاصل ہو سکتی ہے تو یکدم رویا کی حالت میں میں نے دیکھا کہ امریکہ سے تار آیا ہے جس میں لکھا ہے۔بقیہ حاشیہ: - گول میز کانفرنس کے تعلق میں مدبرین انگلستان سے ملاقاتیں۔( رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ بابت ۱۹۳۳۱ء ص ۱۔۹) اس سلسلہ میں ایک خبر (الفضل ۱۹۳۳ - ۷ - ۳۰۔صفحہ ۱۲) (۹۷) احرار نے آپ پر بوجہ تقر رممبر کونسل وائسرے اعتراضات کئے۔جن کے جوابات کا حضور کے خطبہ میں ذکر۔( ریویو آف ریلینجز (انگریزی) بابت نومبر ۱۹۳۴ - صفحه ۴۳۹ و ۴۴۰ )۔اس تقریر میں آپ کے اعزاز میں دیئے گے ڈنر کا ذکر ( بابت اپریل ۱۹۳۵) (۱۰) ڈاکٹر اقبال علی صاحب میڈیکل آفیسر گورنمنٹ ہاؤس لکھنو نے آپ کی آمد پر آپ کے اعزاز میں دعوت دی جس میں راجہ سلیم پور ومسلم و غیر مسلم حکام ضلع مدعو تھے۔(الفضل ۳۵-۳-۱۵) (۱۱) ۲۹-۱۲-۱۹۳۵۔کو آپ سرکاری دورہ پر آپ لکھنو پہنچے۔مولوی محمد طلحہ صاحب کے ہاں دعوت چائے پر معزز غیر احمدی احباب مدعو تھے۔مشہور ادیب شوکت تھانوی نے اپنا کلام سنایا۔اور انعام الحق واجد نے آپ کے اعزاز میں ایک نظم پڑھی۔احمد یہ دار التبلیغ کے مختلف حصے آپ نے دیکھے اور احباب سے ملاقات کی (الفضل ۱۹۳۶۔۱۔۲و۱۹۳۶-۱-۴ و ۱۹۳۶۔۱۔۱۰۔) (۱۲) کلکتہ کے مشہور روز نامہ The State Of India نے ۱۹۳۵۔۱۲۔۳۰ کی اشاعت میں لکھا کہ چوہدری صاحب ممبر ریلوے و تجارت حکومت ہند پہلی بار دورہ پر ہمارے شہر میں وارد ہو رہے ہیں اور پر زور اپیل کی کہ لوگ اس عظیم المرتبت شخصیت کے شاندار استقبال کے لئے ریلوے اسٹیشن پر جمع ہو جائیں۔اور لکھا کہ آپ کی عظمت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ حکومت ہند کی کا بینہ کے ایک بلند پایہ رکن ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ نے سر آغا خاں اور سر عبد الحلیم غزنوی کے ساتھ تعاون کر کے ہندوستان کیلئے جدید آئین کی تشکیل میں ایک نمایاں حصہ لیا ہے۔اگلی اشاعت میں اس روزنامہ نے آپ کا شاندار استقبال ہونے کا ذکر کیا۔(الفضل ۱۰-۱-۱۹۳۶) جماعت احمدیہ کی طرف سے امیر جماعت حکیم ابو طاہر محمود احمد صاحب مرحوم کے مکان پر چائے دی گئی اور ایڈریس پیش کیا گیا۔آپ نے جماعت کو احترام احکام شریعت کی اور اصلاح حال کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ جب تک اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا نہ ہو جائے ہرگز مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔(الفضل ۳۶-۱-۸)