اصحاب احمد (جلد 11) — Page 330
330 مورچے قائم کر دئے گئے تھے۔) اس سال اس انتظام کے تحت ایک ہزار افراد جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے۔* (۸) باؤنڈری کمیشن باؤنڈری کمیشن کے سامنے محترم چوہدری صاحب نے نہایت عمدگی سے کیس پیش کیا لیکن پھر بھی مخالفین نے آپ پر زبان طعن دراز کی۔موقر روز نامہ ” نوائے وقت لاہور قمطراز ہے کہ: اس کام کے لئے صدر انجمن کی طرف سے علاوہ مرکزی عملہ کی تنخواہوں کے ) صرف ایک ہزار روپیہ سالانہ ملتا تھا۔بقیہ بھاری اخراجات چندہ فراہم کر کے پورے کئے جاتے تھے۔ستائیس افراد ( بشمول چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب) باقاعدگی سے چندہ دیتے تھے۔بقیہ حاشیہ:۔تمہارے فیصلہ کے وقت تقدیر خندہ زن تھی۔کیونکہ فیصلہ وہی ہوتا ہے جو آسمان پر ہو زمین والوں کی بھلا کیا مجال کہ آسمانی نوشتوں کو بدل سکیں۔آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ - وو إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَاهَا نَتَكَ وَإِنِّي مُعِيُنٌ مَنْ أَرَادَاعَا نَتَكَ 66 خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا۔اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اُٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔اور تیرے نا کام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے۔اور نا کامی اور نامرادی میں مریں گے لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کریگا۔‘ (صفحہ ۱۴۵ تا ۱۴۶) آسمانی فیصلہ ہی غالب ہوتا ہے۔اس نے تمہارے فیصلہ کو کالعدم کر دیا اور لاکھوں نفوس اور بیسیوں ممالک میں حضرت مرزا صاحب کی محبت قائم کر دی اور عطاء اللہ مذکور اپنے مقاصد میں نا کام ہو کر مرا۔اس کی جمعیت خائب و خاسر ہوئی اور تم جو ا سکے حامی تھے۔تمہیں اللہ تعالیٰ نے زمین سے اٹھا کر بلندی پر لیجا کر وہاں سے اوندھے منہ گرایا۔تا کہ اپنی فرعونیت کے باعث فرعون کی طرح عبرت کا سامان ہو۔کاش اب بھی تو بہ کرو کہ ابھی تمہارا جام عمر لبریز نہیں ہوا اور اس پاک جماعت میں شامل ہو کر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔تا عاقبت سنور سکے۔