اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 313 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 313

313 نہیں دیا جا سکتا اور مذہبی پیشواؤں کے خلاف مکروہ اور غلیظ تحریری حملہ دفعہ ۱۵۳ الف کی زد میں آتا ہے۔ورتمان کے ایڈیٹر کو چھ ماہ قید با مشقت اور دوصد روپیہ جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی مزید تین ماہ قید سخت اور مضمون نویس کو ایک سال قید با مشقت اور پانصد روپیہ جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی مزید چھ ماہ قید مشقت کی سزا دی۔(الفضل ۲۷۔۸۔۱۶) اس فیصلہ کے بعد حضرت امام جماعت احمدیہ نے مسلمانوں کو توجہ دلاتے ہوئے بتلایا کہ اس سزا سے میرا دل خوش نہیں غمگین ہے۔ایک قوم کیا اگلے پچھلے کفار کی جانیں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک عزت کی قیمت نہیں آپ " کی عزت اس سے بالا ہے۔اور وہ دنیا کے احیاء میں ہے۔جو لوگ ہتک عزت کے مرتکب ہوتے ہیں۔اس میں مسلمانوں کا قصور ہے۔یہ انکی تبلیغی ستی کا نتیجہ ہے۔گو ہم حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس کی حکمت عملی نے ملک کو خطر ناک فسادات سے ہم آغوش ہونے سے بچالیا ہے۔کیا ہم اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں۔کہ عیسائی حکومت نے ہزاروں روپے خرچ کر کے اور بیسیوں آدمی مقرر کر کے آپ کی عزت کی حفاظت کی۔جبکہ مجرموں کی تحریرات کروڑوں آدمیوں کے دلوں میں نقش ہیں ؟ سو ہمیں اشاعت اسلام کی طرف توجہ دینی چاہیے۔نیز ہندوؤں کی چھوت کا چھوت سے مقابلہ کا طریق اختیار کرنے اور سادہ زندگی بسر کر کے خدمت دین کی عادت ڈالنی چاہیے۔آپ نے بتایا کہ چونکہ مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ نے جس دفعہ کے تحت ملزموں کو بری قرا دیا تھا۔اس دفعہ کے ماتحت ہی فیصلہ ہونا ضروری تھا۔تا جسٹس مذکور کا فیصلہ غلط قرار پاتا۔ورنہ کسی نئے قانون کے مطابق فیصلہ ہوتا تو سابقہ فیصلہ جو مسلمانوں کے لئے دلآزار اور ہتک آمیز تھا، اور غلط تھا صحیح تسلیم کیا جاتا۔اسلئے میں ایسے دوسرے فیصلہ سے قبل اس دفعہ میں ترمیم کا حامی نہیں تھا موجودہ قانون میں یہ نقائص ہیں کہ : اوّل۔یہ قانون بہ نیت فتنہ مضمون لکھنے والے کو مجرم قرار دیتا ہے نہ کہ صرف انبیاء کی ہتک کو۔حالانکہ فساد کے عدم احتمال کی صورت میں بھی سزا دینی چاہیئے۔دوم۔اس قانون کے تحت صرف حکومت مقدمہ دائر کرنے کی مجاز ہے۔اگر بزرگ کے پیرو بھی مقدمہ دائر کرنے کے مجاز ہوں تو جوش بھی نکل جائے اور حکومت کے خلاف بھی یہ جذ بہ پیدا نہ ہو کہ فلاں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔