اصحاب احمد (جلد 11) — Page 308
308 راستہ باقی تھا کہ وہ ایک نیا مقدمہ چلائے۔سو میرے توجہ دلانے پر ورتمان مضمون کی وجہ سے حکومت بقیہ حاشیہ: - طور پر ایسا کیا جائے توہین عدالت شمار نہیں کیا جاسکتا۔پس ایسی صورت میں جبکہ اکثر حصہ مضمون قابل گرفت نہیں تو ایک آدھ فقرہ کو اس میں سے انتخاب کر کے یہ کہنا کہ چونکہ اس فقرے سے ایسی مراد لی جا سکتی ہے جو توہین عدالت تک پہنچتی ہو، اس لئے اس مضمون کا مصنف قابلِ سزا ہے۔جائز نہ ہوگا۔انگریزی اور ہندوستانی عدالتوں میں بار بار یہ قرار دیا گیا ہے کہ تو ہین عدالت کی کارروائی نہایت واضح اور نہایت فاش تو ہین کی صورت میں ہونی چاہیئے۔اور جہاں ذرا بھی معاملہ مشکوک ہو ، وہاں یہ تعزیری کارروائی نہیں ہونی چاہیئے۔چنانچہ مقد مہ ملکہ بنام گرے۱۹۰۰ء دو کوئنز بینچ صفحہ ۳۹ میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ پبلک کو بہت وسیع اختیارات عدالتوں کی کارروائی پر تنقید و نکتہ چینی کرنے کے ہیں، اور توہین عدالت کے متعلق اختیارات کا استعمال بہت ہی شاذ حالات میں اور صرف فاش صورتوں میں ہونا چاہیئے۔۳۳ انڈین کمیسر صفحہ ۶۶۱ میں پریوی کونسل نے یہ قرا دیا ہے کہ یہ خیال قطعاً غلط ہے کہ عدالتوں یا ججوں کو کوئی خاص حفاظت تنقید اور نکتہ چینی سے حاصل ہے۔جوں کے پبلک افعال بھی ایسے ہی تنقید کے ماتحت ہیں جیسے اور لوگوں کے۔۴۱ کلکتہ صفحہ ۱۷۳ میں فاضل ججان نے بہت سے حوالے انگریزی فیصلہ جات کے دئے ہیں ، جن میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ چونکہ توہین عدالت کے متعلقہ اختیارات نہایت وسیع اور غیر محدود ہیں۔اور سزا کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ، نہ ہی اپیل کا اختیار حاصل ہے اور عدالت خود ایک ایسے معاملہ میں منصف بنتی ہے جو اس کے اپنے وقار کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اس لئے ان وسیع اختیارات کا استعمال نہایت احتیاط کے ساتھ اور بہت شاز موقعوں پر ہونا چاہیئے۔ایک انگریز جج نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ میں باصرار واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا توہین عدالت کے مسئلے کے متعلق پاگل ہوگئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کو عمل میں لانا اکثر دفعہ اپنے مقاصد کو خود ہی نا کام کر دیتا ہے۔آخر میں میں یہ بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میرے فاضل دوست نے جو یہ کہا ہے کہ مصنف مضمون نے اس مضمون کی پوری ذمہ داری اپنے سر پر نہیں لی۔یہ صحیح نہیں ہے۔ممکن ہے میرے فاضل دوست نے میرے موکل کے تحریری بیان کا وہ حصہ نہ پڑھا ہو۔جس میں انہوں نے اس ذمہ داری