اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 307 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 307

307 زیادتی کے متعلق ، اس لئے حکومت بھی مزید کارروائی کرنے سے معذور تھی۔اس لئے کہ صرف یہ بقیہ حاشیہ:۔معمولی قانونی مسائل کے پیدا ہونے پر مقدمات اور ججوں کے پاس فیصلہ کے بھیج دئے جاتے۔۔۔۔۔۔ہیں۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔یہاں یہ سوال نہیں۔یہاں تو سوال یہ ہے کہ مصنف مضمون یہ کہتا ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ فیصلہ ہوا کیسے؟ اس کے پیچھے ضرور کوئی بات ہوگی۔اس کو معلوم کرنا چاہیئے۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔یہ بات کہ یہ فیصلہ ہوا کیسے۔یہ تو کئی دفعہ فاضل جوں کے منہ سے بھی سننے میں آجاتی ہے۔بعض دفعہ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی درمیانی مرحلہ پر ایک فاضل حج ایک حکم صادر کرتا ہے۔اور بعد کے کسی مرحلہ پر جب وہ یہ سمجھتا ہے کہ درمیانی حکم جاری نہ ہونا چاہئے تھا، تو وہ یہ کہہ دیتا ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نے یہ حکم کیسے دے دیا۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔یہاں حج کے الفاظ کی تعبیر در کار نہیں۔بلکہ ایک اخبار نویس کے الفاظ کی تعبیر درکار ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔بیشک حج کے الفاظ کی تعبیر درکار نہیں لیکن میری مراد یہ ہے کہ ایسے الفاظ کا استعمال جائز طور پر بھی ہو سکتا ہے۔اور لازم نہیں ہے کہ کوئی قابلِ اعتراض مفہوم ہی ان میں پنہاں ہو۔اسی طرح دریافت وجوہات کا مطالبہ بھی بغیر حج کی نیت پر حملہ کئے ہو سکتا ہے۔آخر آجا کر بات تو یہیں آٹھہرتی ہے کہ آیا فقرہ زیر بحث سے کوئی مراد ایسی بھی ہوسکتی ہے۔جو قابلِ اعتراض نہ ہو۔اور اگر ایسی مراد ہو سکتی ہے، تو پھر یہ فقرہ قابل گرفت نہیں ہے۔باقی حصہ مضمون کے متعلق میرے فاضل دوست کو کوئی اعتراض نہیں۔کیونکہ وہ حصہ تنقید کی حد سے تجاوز نہیں کرتا۔اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ صحیح ہوں یا غلط ، بجا ہوں یا بیجا ، ایک اخبار نویس کو یہ حق ہے کہ وہ اس رنگ میں اپنی رائے کا اظہار کرے۔ایک معنی میں تو کسی فیصلہ کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ فیصلہ غلط ہے یا خلاف قانون ہے ، عدالت کی ہتک ہے۔کیونکہ اس سے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جو ج غلط فیصلے کرتے ہیں، وہ نالائق ہیں۔لیکن یہ مسلم ہے کہ غلط فیصلے بھی ہوا کرتے ہیں اور غلط فیصلہ کو غلط کہنا اور صحیح فیصلہ کے ساتھ اختلاف کر کے اسے خلاف قانون قرار دینا توہین عدالت نہیں ہے۔اسی طرح حج کی لیاقت یا قانون دانی پر حرف رکھنا گونا جائز