اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 294 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 294

294 حضور نے دل آزار رسالہ ورتمان کے خلاف آواز اٹھائی۔چنانچہ حکومت پنجاب نے اسے ضبط بقیہ حاشیہ: - کورٹ آف ریکارڈ کو کامن لاء کے اختیارات حاصل ہیں۔جہاں کامن لاء کے اختیارات مفقود ہوں گے ، وہاں یہ دلیل بھی غیر متعلق ہو جائے گی۔بعض جگہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیسے بغیر حج کے عدالت عدالت نہیں کہلا سکتی۔اسی طرح بغیر ایسے اختیارات کے عدالت قائم نہیں رہ سکتی۔یہ مسئلہ انگلستان میں رائج ہو تو ہو ہندوستان میں تو مسلمہ طور پر رائج نہیں ہے۔چنانچہ ۱۸۶۶ء سے ۱۹۱۹ء تک پنجاب میں چیف کورٹ قائم رہی اور بغیر ایسے اختیارات کے قائم رہی۔چیف کورٹ صوبہ کی سب سے اعلیٰ عدالت تھی اور اسے اعلیٰ سے اعلیٰ دیوانی اور فوجداری اختیارات حاصل تھے۔موجودہ ہائی کورٹ کو بہت کم زائد اختیارات چیف کورٹ پر دئے گئے ہیں۔اور جو اختیارات دئے گئے ہیں ان کا ذکر صراحت کے ساتھ فرمان شاہی میں کر دیا گیا ہے۔تو یہ کہنا جائز نہ ہوگا کہ بغیر تو ہین عدالت کے متعلقہ اختیارات کے عدالت عدالت نہیں رہ سکتی۔یا عدالت کی عزت برقرار نہیں رہ سکتی۔اسی طرح آج ہندوستان کے بعض صوبوں میں ایسی عدالت ہائے عالیہ قائم ہیں جن کے سپر د اعلیٰ سے اعلیٰ اختیارات کئے گئے ہیں۔لیکن انہیں مسلمہ طور پر توہین عدالت کے متعلق سرسری کارروائی کا اختیار نہیں۔باوجود اس کے وہ عدالتیں قائم ہیں اور ان کے رعب اور عزت میں کوئی فرق نہیں آتا۔اس لئے میں عرض کروں گا، کہ اس عدالت کو ایسے اختیارات بھی حاصل ہوں۔ان تمام وجوہات کی بناء پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ اس عدالت کو اپنی تو ہین کے متعلق سرسری کارروائی کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور موجودہ کارروائی بوجہ بلا اختیار ہونے کے نا جائز ہے۔اور اس کو یہیں روک دینا چاہیئے حسر سرکاری وکیل کا جواب مسٹر کا رڈن نوڈ گورنمنٹ ایڈووکیٹ : توہین عدالت کی مختلف اقسام ہیں۔جن کو سول اور کرمنل سے تعبیر کیا گیا ہے۔سول تو ہین یہ ہے کہ عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کی جائے اور اس نافرمانی کے بدلے میں عدالت کوئی سزا تجویز کرے۔کرمنل توہین کی مختلف صورتیں ہیں۔ایک صورت تو یہ ہے کہ عدالت کے اجلاس کے دوران میں عدالت کے روبرو ایسی کارروائی کی جائے جس سے عدالت کی تو ہین ہوتی ہو۔دوسری صورت یہ ہے کہ دورانِ مقدمہ میں عدالت سے باہر مقدمہ کے متعلق ایسی باتیں کہی یا لکھی جائیں ، جو توہین عدالت کا درجہ رکھتی ہوں اور تیسری صورت یہ ہے کہ مقدمہ کے