اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 293 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 293

293 جا سکتے ہیں ، تو کیا ہم اس مقدس مقصد کے لئے جیل سے باہر متحد نہیں ہو سکتے ؟ ( الفضل ۲۸/۶/۲۷) بقیہ حاشیہ: - چوہدری ظفر اللہ خاں : واقعات کے لحاظ سے تو بیشک دونوں فیصلے جدا جدا ہیں۔میری غرض اس فیصلہ کی طرف اشارہ کرنے سے صرف یہ تھی کہ بعض دفعہ جب پر یوی کونسل ایک امر کا فیصلہ کرنے بیٹھتی ہے، تو اس سے فاش غلطی صادر ہو سکتی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ پر یوی کونسل کا فیصلہ قابلِ پابندی نہ رہے۔اور ۲۹۔الہ آباد میں تو جور یمارک کیا گیا ہے، وہ بطور فیصلہ کے بھی نہ تھا۔محض ضمناً واقعات کے بیان کرنے میں ایک ریمارک کر دیا گیا تھا۔تیسرا فیصلہ۴۸۰ الہ آبادصفحہ ۷۱۱ ہے۔اس فیصلہ میں ۲۹۔الہ آباد صفحہ ۹۵ کے ضمنی ریمارک کا تنتبع کیا گیا ہے۔اور اس مسئلہ پر اس پہلو سے بحث نہیں کی گئی کہ الہ آباد ہائی کورٹ کو کامن لاء کے اختیار اسے حاصل نہیں۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔مسٹر جسٹس بوائز کے فیصلہ میں ایسے ریمارکس موجود ہیں جن سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ اس مسئلہ پر اس پہلو سے بحث کی گئی تھی۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔بہر صورت ۴۸۔الہ آباد اور ۶۔لاہور کے فیصلہ جات ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔اور ان دونوں کے متعلق میں اپنے اعتراضات پیش کر چکا ہوں۔آخر میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے اختیارات کا استعمال اپنے اندر فوجداری رنگ رکھتا ہے۔اور جب تک صریح طور پر یہ اختیارات حاصل نہ ہوں ، عدالت کو خود بخو دانہیں اختیار کرنے میں تامل کرنا چاہیئے۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔یہ کارروائی فوجداری اختیارات کے ماتحت نہیں کی گئی۔چوہدری ظفر اللہ خاں : ۴۱۔کلکتہ صفحہ ۱۷۳ میں ایسی کارروائی کو فوجداری کارروائی قرار دیا گیا ہے۔بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ ایسے اختیارات کا استعمال ایک نئے جرم کے پیدا کرنے کے مترادف ہے۔اور عدالت کو نئے جرم پیدا کرنے سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔جب تک صریح طور پر اسے ایسے اختیارات حاصل نہ ہوں پھر کیوں صرف ایک ایسے مسئلہ کا جو خصوصیت سے کامن لاء کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، انتخاب کر لیا جائے۔اور یہ کہا جائے کہ اگر چہ باقی اختیارات تو ہمیں حاصل نہیں ہیں لیکن یہ اختیار ہمیں ضرور حاصل ہے۔بعض فیصلہ جات میں اور خصوصیت سے انگریزی فیصلہ جات میں اس قسم کے الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ہر کورٹ آف ریکارڈ کو توہین عدالت کے متعلق کا رروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔لیکن ان فیصلہ جات میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ہر