اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 288 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 288

288 دار ہے۔ہر ایک سچے مسلمان کا فرض اولین ہے کہ وہ حضور صلعم کی عزت و ناموس کی حفاظت بقیہ حاشیہ:- اب میں پریذیڈنسی ہائی کورٹوں کے متعلق اپنی پوزیشن کو واضح کرتا ہوں۔سب سے اول ملاحظہ ہو چارٹر سپریم کورٹ کے ۱۷۷۴ء فقرہ نمبر ۴۔اس فقرہ میں صاف طور پر درج ہے کہ سپریم کورٹ کے جوں کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو کنگز بینچ کے جوں کو انگلستان میں حاصل ہیں۔اس کے بعد ملاحظہ ہو دفعہ 9 انڈین ہائی کورٹس ایکٹ ۱۸۶۸ ء اس ایکٹ کی رو سے ملکہ وکٹوریہ کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ پریذیڈنسی صدر مقاموں میں ہائی کور میں قائم کریں اور ان ہائی کورٹوں کے اختیارات کے حدود قائم کریں۔اور دفعہ 9 میں یہ تشریح کی گئی ہے۔کہ کن عدالتوں کے جوں کو وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو عدالتہائے ماسبق کے جوں کو حاصل تھے۔تو یہ امر واضح ہو گیا کہ پریذیڈنسی ہائی کورٹوں کے جوں کو وہی اختیارات حاصل ہیں جو سپریم کورٹ کے ججوں کو تھے۔اور جیسا میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔سپریم کورٹ کے ججوں کو صریح طور پر کنگز بینچ کے ججوں کے اختیارات دئے گئے تھے۔چنانچہ پریذیڈنسی ہائی کورٹوں کے لیٹرز پیٹینٹ میں بھی ان اختیارات کی تشریح کر دی گئی ہے۔اس عدالت کے اختیارات کی تشریح بھی اس کے لیٹرز پیٹنٹ میں کی گئی ہے۔لیکن لیٹر پیٹینٹ میں کوئی بھی ایسا فقرہ نہیں ہے۔جس کے یہ معنی نکالے جاسکیں کہ اس عدالت کو کامن لاء کے اختیارات حاصل ہیں یا وہی اختیارات حاصل ہیں ) جو پریذیڈنسی ہائی کورٹوں کو حاصل ہیں۔مسٹر جسٹس ٹیک چند :۔چھوٹی چھوٹی نو آبادیوں کی ہائی کورٹوں نے ان اختیارات کو استعمال کیا ہے اور پریوی کونسل نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔تو کیا ہمیں وہ بھی حقوق حاصل نہیں ہیں جو ان چھوٹی سی عدالتوں کو حاصل ہیں ؟ چوہدری ظفر اللہ خاں کسی ملک کے چھوٹے یا بڑے ہونے کا سوال اس مسئلہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا۔سوال تو یہ ہے کہ آیا ان عدالتوں کو جنہوں نے ان اختیارات کو استعمال کیا ہے، کا من لاء کے اختیارات حاصل تھے یا نہیں۔اگر انہیں ایسے اختیارات حاصل تھے تو انہیں اپنی توہین کے متعلق سرسری طور پر سزا دینے کا اختیار بھی حاصل تھا۔مسٹر جسٹس ٹیک چند :۔اس امر کا کیا ثبوت ہے کہ انہیں کا من لاء کے اختیارات حاصل تھے؟ چوہدری ظفر اللہ خاں :۔جب تک ان عدالتوں کے چارٹر آپ کے سامنے نہ ہوں۔آپ یہ بھی