اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 287 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 287

287 حضور صلعم کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کھڑے ہونے کی وجہ سے محبوس کر دئے گئے ہیں۔انہوں نے جو کچھ لکھا اور شائع کیا ، وہ ہر ایک مسلمان کے سچے جذبات اور حقیقی خیالات کا آئینہ - بقیہ حاشیہ: تلاش پر اس قلیل وقت میں مجھے مل سکا جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ عدالت کو ایسے امور میں اختیارات سماعت حاصل ہیں، لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے۔میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ اس فیصلہ میں عدالت صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچی اور وہ فیصلہ بوجہ تین جوں کے فیصلہ ہونے کے اس اجلاس پر جو پانچ ججوں پر مشتمل ہے قابل پابندی نہیں۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔۴۸ الہ آباد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہیں اختیا ر سماعت حاصل ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں : یہ فیصلہ میری نظر سے نہیں گذرا۔میں نے ابھی یہ فیصلہ منگوا بھیجا ہے۔اور اس کے متعلق بھی میں اپنی بحث کے دوران میں اپنے اعتراضات پیش کروں گا۔مسٹر جسٹس ٹیک چند : - ۴۸۔الہ آباد کی بجائے ۹۷۔انڈین کیسز میں اس فیصلہ کی زیادہ مفصل رپورٹ درج ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔اس مسلہ کے متعلق میرے اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ توہین عدالت کے متعلق سرسری کا رروائی کر کے سزا دینا خالص انگلستان کا من لاء کا مسئلہ ہے۔اور ان عدالتوں کو جنہیں کا من لاء کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔یہ اختیار نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی تو ہین کے متعلق سرسری کا رروائی کر کے ملزم کو سزا دے سکیں۔پریزیڈینسی ہائی کورٹوں کے متعلق یہ مسلمہ امر ہے کہ انہیں یہ اختیارات حاصل ہیں۔لیکن اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ ہائی کورٹ سپریم کورٹوں کی جانشین ہے۔اور سپریم کورٹوں کو کامن لاء کے اختیارات ان کے چارٹر کے ماتحت حاصل تھے۔اور وہی اختیارات پریزیڈینسی ہائی کورٹوں کو بوجہ سپریم کورٹوں جانشین ہونے کے حاصل ہیں۔یہ امر تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ لاہور ہائی کورٹ بھی کورٹ آف ریکارڈ ہے۔لیکن لاہور ہائی کورٹ کو کامن لاء کے قطعاً کوئی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ایسی صورت میں اس ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہیں۔ایسی صورت میں اس ہائی کورٹ کو یہ اختیار نہیں کہ محض اس وجہ سے کہ وہ کورٹ آف ریکارڈ ہے۔اپنے متعلق ایسے اختیارات تجویز کرے ، جو حقیقت میں اسے حاصل نہیں ہیں۔