اصحاب احمد (جلد 11) — Page 282
282 وحدیث سے ثابت سے کیا کہ ہم ہی حقیقی مسلمان ہیں۔۲۷ را پریل کو عدالت نے فیصلہ سنایا کہ سراج الدین مسلمان ، دعوملی مدعیہ خارج مخالفین نے مشورہ کیا تھا کہ تنسیخ نکاح کی ڈگری ہونے پر کچہری سے باجے بجنے شروع ہو جائیں اور دیگیں پکوا کر مولویوں کو کھلائی جائیں۔اور عورت کا اسی وقت دوسرا نکاح کیا جائے اور اپیل کا بھی انتظار نہ کیا جائے۔(الفضل ۱۵/۱۹ رمئی ۱۹۱۷ ء ) (۳) مقدمہ مدراس۔علاقہ مدراس میں ایک شخص نے احمدیت قبول کی تو اس کی بیوی نے مسلمان علماء سے فتویٰ حاصل کر کے کہ وہ مرتد ہو گیا ہے۔اور اس کا نکاح فسخ ہو گیا ہے۔دوسری جگہ شادی کر لی۔اس مقدمہ کی پیروی میں بھی محترم چوہدری صاحب ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔اس وقت آپ کی عمر قریباً تمہیں سال کی تھی۔اس کا فیصلہ جماعت احمدیہ کے حق میں ہوا اور یہ قرار دیا گیا کہ کوئی مسلمان احمدیت قبول کرنے سے مرتد نہیں ہوتا۔احمدی مسلمانوں کا ایک اصلاح یافتہ فرقہ ہے اور احمدی ہونے کے باعث نکاح فسخ نہیں ہوا۔( مدراس لا جرنل بابت ۱۹۲۳ء کیس نمبر ۱۷۱)۔(۴) الفضل کے خلاف مقدمہ ہتک عزت ظہیر الدین اروپی نے الفضل کے خلاف مقدمہ ہتک عزت دائر کیا۔آر یہ اخبارات پرتاپ، ملاپ اور کیسر نے بارہا اروپی کی تائید کی ، اور جماعت احمدیہ کے خلاف زور قلم صرف کیا۔اروپی کو معزز اور ایک حصہ جماعت کا لیڈر قرار دیا۔اور بالآخر منہ کی کھانی پڑی۔کیونکہ فیصلہ مدعی کے خلاف رائے بہادر لالہ برکت رام مجسٹریٹ درجہ اول گوجرانوالہ نے صادر کیا ، جو آریوں کو منصف مزاج اور ایماندار مسلم تھے۔اس مقدمہ کے دوران میں جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنی اعلیٰ قابلیت ااور قیمتی وقت صرف کرنے میں بڑی فیاضی سے کام لیا۔جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحَسَنَ الْجَزَاءِ۔آپ ضروری سے ضروری کام ترک کر کے مقدمہ کی پیروی کے لئے تشریف لے جاتے رہے۔اور بعض وقت نہایت دور در از مقام سے آئے۔اس وقت آپ اپنی قانونی قابلیت سے جس قد ر سلسلہ