اصحاب احمد (جلد 11) — Page 276
276 محترم مولوی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ : افتتاح کی تقریب محترم چوہدری صاحب کی صدارت میں مسجد کے وسیع باغ میں تین بجے بعد دو پہر شروع ہوئی۔اس کے بعد محترمی چوہدری صاحب نے ایک پر مغز اور ایمان افروز تقریر فرمائی۔جس کا ترجمہ برادرم عبدالکریم صاحب ڈنکر نے کیا۔بعد ازاں محترمی چوہدری صاحب نے اجتماعی دعا کروائی اور مسجد کے دروازہ پر تشریف لے جا کر دروازہ کھولا اور حاضرین نے مسجد کو دیکھا۔“ آپ نے تقریر میں اسلام اور عیسائیت کا موازنہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں مذاہب نے تو حید باری تعالیٰ کو پیش کیا ہے۔اور یہ بھی بیان کیا کہ جماعت احمد یہ حضرت احمد علیہ السلام بانی سلسلہ کو مسیح کی آمد ثانی کا مصداق قرار دیتی ہے۔ایک اخبار رقمطراز ہے ( اور بیسیوں دیگر اخبارات نے بھی قریباً انہی الفاظ میں روئدا دشائع کی ہے) کہ: ☆66 سر محمد ظفر اللہ خاں نے اپنی تقریر میں ذکر کیا کہ اسلام تو حید کا علم بردار ہے اور اسلام کا پیغام عالمگیر ہے۔تمام دنیا میں اشاعت اسلام کے کام میں کامیابی سے دنیا میں امن قائم ہو گا۔حضرت مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام ) خدا کے ایک نبی تھے اور تمام مسلمان ان کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔اسلام میں مسجد تمام بنی نوع انسان کیلئے کھلی ہے۔تاوہ اس میں عبادت کر سکیں ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل و رحم سے اس مسجد و دیگر مساجد کو اپنی مخلوق کی ہدایت کے مراکز بنائے ، اور جن مخلصین نے ان کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔ان کے اخلاص کو قبول فرمائے۔آمین (۱۱) قانونی خدمات الفضل مورخه ۲۵ و ۲۶ جون و ۱۶ جولائی ۱۹۵۷ء۔چوہدری صاحب کی تقریر پر چہ مورخہ ۲۸ / جولائی میں درج ہے۔جرمن مشن کی طرف سے اس تقریب پر کی گئی صاحبزادہ صاحب کی تقریر وغیرہ ایک رسالہ کی شکل میں شائع ہوئی ہے جس کے آخر میں جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض