اصحاب احمد (جلد 11) — Page 272
272 وو سر ظفر اللہ خاں۔۔۔کا بیان پریس کانفرنس کراچی میں: میرے اوپر بارہا یہ اعتراض ہو چکا ہے کہ میں ملکی اور بین الملکی معاملات میں قرآن یا حدیث کو کیوں پیش کر دیتا ہوں۔حالانکہ ملکی اور بین الملکی مسائل کو اگر دینی سندمل جائے تو بہتر ہی ہوا کرے۔چنانچہ اس وقت بھی اس اعتراض کا خطرہ لے کر میں کہتا ہوں کہ ہمیں تو اس کی تعلیم ملی ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ـ الخ“ " کاش یہی شیوہ عرب اور مصر اور عراق اور ایران اور شرق سیر دن اور شام اور افغانستان کے نمائندوں کا بھی ہوتا۔کاش ان میں بھی جرات غیروں کے سامنے اپنے ہاں کی چیزوں کے پیش کرنے کی ہوتی اور اب تو نمائندہ پاکستان اپنے منفرد ہونے کی بناء پر غیروں کی مجلس میں بیشک عجیب سا معلوم ہوتا ہوگا اور اسی لئے اس کا استحقاق اجر بھی کہیں بڑھ رہا ہوگا۔۔۔۔اور اب تو اونچے حلقوں میں یہ وزیر خارجہ پاکستان کے دم سے ہی قائم ہے۔(بحوالہ الفضل ۵۲-۶-۲۹) (۱۰) ایک ایسے موقعہ کا علم انگریزی روزنامہ ڈان کے ذیل کے نوٹ سے ہوتا ہے: چوہدری صاحب نے جو چھوٹی طاقتوں کے اس گروپ کے لیڈر ہیں جس نے گذشتہ دسمبر میں بڑی طاقتوں کو تخفیف اسلحہ کے سلسلہ میں تبادلہ خیالات پر آمادہ کیا تھا۔پیرس میں ایک خصوصی ملاقات میں بیان کیا کہ مشرق ومغرب کے باہمی جھگڑے و کشیدگی کی طوالت پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقوں میں کسی وقت بھی جنگ کے شعلے بھڑکنے کا موجب بن سکتی ہے۔آپ نے متنبہ کیا کہ مشرق اور مغرب کے تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہوتے جارہے ہیں اور صورت حال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔( بحوالہ الفضل ۱۳/۱/۵۲) (۱۱) آپ نے بین الاقوامی اخوت کی اسمبلی میں برسلز میں اپنی تقریر میں فرمایا۔کہ سائینس کی افسر محکمہ اطلاعات دار السلام ( مشرقی افریقہ) نے پبلک کے استفادہ کے لئے اس تقریر کا دلکش ملخص بصورت ہینڈ بل شائع کیا۔صوبائی کمشنر وغیرہ نے بھی اس تقریر کو پسند کیا۔اور حب وطن کے جذبات سے لبریز قرار دیا۔(الفضل ۱۷/۴/۴۱)