اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 15 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 15

15 کچھ عرصہ کے بعد حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کا بڑا بھتیجا فوت ہو گیا۔اور والدہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کو پھر ان رسوم میں تھوڑا بہت حصہ لینا پڑا۔اب کی بار انہوں نے خواب میں دیکھنا شروع کیا کہ دو بیل لمبے سینگوں والے ان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔اور اُن سے بھاگتی پھرتی ہیں۔لیکن کہیں جائے مفر نہیں۔اور بعض دفعہ وہ حملہ کر بھی دیتے ہیں۔اور اُن کے جسم کو اپنے سینگوں سے زخمی کر دیتے ہیں۔ہر دفعہ سونے پر اُنکی یہی کیفیت ہوتی۔اور چند منٹ میں اُن کی آنکھ گھل جاتی۔اس طور پر گویا نیند حرام ہوگئی اور رات زاری اور دعاؤں میں گذرتی۔حضرت چودھری صاحب بھی اُن کے لئے بہت دعائیں کرتے لیکن یہ کیفیت پورا ایک مہینہ متواتر جاری رہی۔آخر مہینہ بھر کے استغفار اور دعاؤں کے بعد پھر آپ نے اپنے ٹھسر صاحب کو خواب میں دیکھا۔انہوں نے انہیں سخت تنبیہہ کی۔اور فرمایا کہ اب آئندہ کے لئے تو بہ کا دروازہ بند ہے۔اگر پھر آپ نے یہ جرم کیا۔تو توبہ قبول نہیں ہوگی اور اُنہوں نے بیلوں کو روک دیا اور آپ سے فرمایا۔اب بے فکر گذرجائیں۔لیکن ابھی ایک اور امتحان باقی تھا۔اس آخری تو بہ کے تھوڑے عرصہ کے اندر چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی بڑی پھوپھی صاحبہ کا بڑا فرزند فوت ہو گیا۔اور ان کی والدہ صاحبہ۔دادی صاحبہ۔چی صاحبہ اور ڈسکہ کی اور چند عورتوں کی ہمراہی میں پھوپھی صاحبہ کے ہاں ہمدردی اور اظہار افسوس کے لئے گئیں۔ان دنوں دیہات میں رواج ہوا کرتا تھا کہ قریبی رشتہ دار عورتوں کے ماتم پرسی کیلئے آنے پر ایک کہرام مچ جایا کرتا تھا۔اور بہت واویلا ہوا کرتا تھا۔اور جس گاؤں میں ماتم ہوا کرتا تھا۔وہاں کی عورتیں ان قافلوں کی آمد پر اپنے مکانوں کی چھتوں پر سے ان کا واویلا سنا کرتی تھیں۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی جب چوہدری صاحب کے خاندان کی عورتیں پھوپھی صاحبہ کے گاؤں کے قریب پہنچیں تو انہوں نے دیکھا کہ گاؤں کی عورتیں اس انتظار میں اپنے مکانوں کی چھتوں پر بیٹھی ہیں کہ اُن کا واویلائنیں۔والدہ چودھری صاحب نے اپنی ہمرا ہی عورتوں سے درخوست کی کہ وہ مطلق واویلا نہ کریں۔اور بالکل خاموشی سے پھوپھی صاحبہ کے مکان پر پہنچ جائیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔لیکن جب وہ گلی میں داخل ہوئیں تو ارد گرد کے مکانوں کی چھتوں پر جمع شدہ عورتوں میں سے بعض نے انہیں طنز کرنے