اصحاب احمد (جلد 11) — Page 16
16 شروع کئے اور کہا کہ : ”بی بیوہنستی ہوئی چلی جاؤ۔“ آپ کی والدہ صاحبہ اور ان کی ساتھ کی عورتوں نے صبر سے یہ سب کچھ سنا اور برداشت کیا۔اور خاموشی سے پھوپھی صاحبہ کے مکان کے اندر داخل ہو گئیں۔وہاں پہنچ کر بھی والدہ محترمہ نے کسی رسم یا کسی قسم کی جزع فزع میں حصہ نہیں لیا۔اور اس امتحان میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس کے بعد آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری مضبوطی سے اپنے عہد پر قائم رہیں۔یہ زمانہ آپ کا احمدیت سے پہلے کا زمانہ تھا۔اس زمانے میں آپ کو خواب اور رویا میں اکثر والد چودھری نصر اللہ خاں صاحب ہی نظر آیا کرتے تھے۔اور اُنہیں کے ذریعہ اُن کی روحانی اور اخلاقی تربیت ہوئی تھی اور زیادہ تر انہیں کے ذریعہ بشارات حاصل ہوتی تھیں۔چنانچہ ۱۹۰۳ء کا ذکر ہے کہ والدہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنے گھر کو خواب میں دیکھا اور اُن سے کہا کہ میرے پاس یہ ایک روپیہ داغدار ہے اِسے بدل دیجئے۔اُنہوں نے وہ روپیہ لے لیا اور اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر اُن کو دیا اور کہا۔میرے پاس اب یہ ایک ہی روپیہ ہے یہ لے لیجئے۔لیکن یہ محمد شاہی روپیہ ہے۔اس پر کلمہ کندہ ہے۔اس کی بے ادبی نہ ہو۔اس خواب کے بعد آپ کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک اور فرزند عطا کریگا۔لیکن ساتھ ہی یہ فکر تھی کہ ان کا ایک بچہ حد اللہ خاں جو چوہدری شکر اللہ خاں صاحب سے چھوٹا اور چوہدری عبداللہ خاں صاحب سے بڑا تھا اور جس کی صحت اچھی نہیں رہتی تھی اور کمزور سا تھا، فوت ہو جائیگا۔چنانچہ چند ماہ بعد چوہدری اسد اللہ خاں پیدا ہوئے۔اور اس کے کچھ ماہ بعد خسرہ سے چند دن بیمار رہ کرحم اللہ خاں کی وفات واقع ہوگئی۔آپ نے اس موقعہ پر بھی نہایت صبر سے کام لیا۔اور کوئی کلمہ تک منہ سے نہیں نکالا۔جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوتا۔حمد اللہ خاں فجر کے وقت فوت ہوئے اور دس بجے سے قبل اس کی تجہیز اور تکفین اور تد فین سے فارغ ہو کر حضرت چوہدری صاحب حسب معمول مقدمات کی پیروی کے لئے کچہری چلے گئے۔اور تمام بچوں کو بھی وقت پر تیار کر کے مدرسہ بھیج دیا گیا۔