اصحاب احمد (جلد 11) — Page 235
235 نواب محمد علی خاں صاحب نے ایک کا سکٹ میں پیش کیا۔اس وفد میں حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب بھی شامل تھے۔اس سپاسنامے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے حالات اور آپ کی تعلیم کا ذکر تھا۔تینتیس افراد کے وفد میں سے اس وقت غالباً ذیل کے احباب زندہ ہیں۔مکرم مولوی محمد دین صاحب ( حال ناظر تعلیم )۔مکرم سید ولی اللہ شاہ صاحب ( ناظر امور خارجیہ ) مکرم قاضی محمد شفیق بقیہ حاشیہ: - (۳۰) ماریشس سے رسالہ LE MASSAGE کے خاص نمبر میں جو مئی ۱۹۶۲ء میں شائع ہوا۔آپ کا ایک مضمون ہے۔(اس وقت جون ۱۹۶۲ء میں ماریشس کے الحاج محمد سو کیا صاحب اور ان کے بھتیجے احمد شمشیر صاحب سو کیا قادیان آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتلایا کہ اصل مضمون انگریزی میں تھا۔جس کا ترجمہ فرانسیسی میں کر کے درج کیا گیا ہے۔) یہ دیدہ زیب رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام و حضرات خلفاء کرام و مجاہدین ماریشس حضرات حافظ عبید اللہ صاحب صوفی غلام محمد صاحب ، حافظ جمال احمد صاحب ( رضی اللہ عنہم ) اور اخوان المکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب ، مولوی فضل الہی صاحب بشیر ، مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر اور جناب چوہدری صاحب کی تصاویر نیز دیگر بعض تاریخی تصاویر سے مزین ہے۔جواں سال مجاہد منیر صاحب کی مجاہدانہ مساعی کا شاہکار ہے۔آپ نے ایک کالج کی بنیاد رکھی ہے جس کے ایک حصہ کی تعمیر سواد و صد ا حباب نے تمہیں سے چالیس گھنٹے کے متواتر وقار عمل سے کر کے لوگوں کو محو حیرت کر دیا ہے۔اخویم بشیر احمد صاحب ( جو اس وقت جولائی ۱۹۶۲ء میں الوداعی زیارت قادیان کر کے ربوہ روانہ ہوئے ہیں، اب پھر ماریشس کے میدانِ جہاد کو روانہ ہورہے ہیں۔انہوں نے اپنے سابق عرصہ قیام میں بہت سرفروشی سے کام کیا۔اور جماعت کو جو بعض بغاوت پسندوں کے باعث تفرق کا شکار ہو رہی تھی۔حیرت انگیز جذبۂ ایمان وایقان اور استقامت و استقلال کے ساتھ ایک سلک میں منسلک کیا اور بغاوت پسند اپنی مخادعانہ کارروائیوں میں خائب و خاسر ہوئے اور جماعت میں خلافت سے وابستگی پیدا ہوئی۔اور اسی روح کو اخویم منیر صاحب نے نہ صرف قائم رکھا بلکہ جماعت کا قدم آپ کی مساعی سے بہت آگے بڑھا۔اللہ تعالیٰ ہر دو کی مساعی کو اپنے حضور قبول فرمائے اور بیش از بیش خدمات جلیلہ کی توفیق ارزاں کرے۔آمین۔