اصحاب احمد (جلد 11) — Page 229
229 (۵) ایک عزیز کے نام خط مرقومه ۳۱/۵/۳۹ سائز ۱۶/ ۳۰ × ۲۰ صفحات ۱۶۴۔میرے حاشیہ: - (۴۶) ۱/۳/۵۸ کو تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں میں جہاں علاقہ کے احباب جمع تھے۔امیر ضلع مکرم بابو قاسم الدین صاحب نے آپ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔آپ نے اس کے جواب میں احباب کو خدمت خلق کی تلقین کی اور غیر از جماعت احباب کے لئے انسان کی پیدائش کے مقصد کے متعلق پنجابی زبان میں تقریر کی (الفضل ۱۱/۳/۵۸)۔(۴۷) جلسه سالانه ۱۹۵۸ء پر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے منعقدہ ایک اجلاس میں احمدیوں نے باون زبانوں میں تقاریر کی تھیں۔اس کا افتتاح کرتے ہوئے محترم چوہدری صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود سے وعدہ تھا کہ : د میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان مہیا کرے گا۔چنانچہ حضور کا پیغام بہت سی زبانیں جاننے والوں اور مختلف ممالک کے رہنے والوں نے سنا۔چنانچہ ابھی آپ ان کی تقریریں سنیں گے۔یہ نظارہ بڑا ہی ایمان افروز ہے۔ہم پر لازم ہے کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے زبانیں سیکھیں اور بطور دلپسند مشغلہ Hobby) کے تبلیغ کی نیت سے غیر ملکی زبانیں سیکھ سکتے ہیں۔علاوہ ازیں مرکز میں دنیا کی اہم اور مشہور کم از کم پانچ چھ زبانوں کے سکھلانے کا ہی ابتداء میں انتظام کرنا ضروری ہے۔اس طرح جانے والے مبلغین کا بہت سا وقت بچ جائے گا۔جب تک بیرونی ممالک میں ایسے لوگ بکثرت پیدا نہیں ہو جاتے۔جو مرکز سے فیضیاب ہو کر اپنے علاقوں کو سیراب کریں۔اس وقت تک ضروری ہے کہ ہم ایسے مبلغ پیدا کریں جو دینی علوم کے ساتھ بیرونی زبانوں کو بھی جانتے ہوں۔(الفضل ۲۴/۱/۵۹) (۴۸) تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی یونین میں شخصیت کو بنانے اور شخصی کمال کرنے کے موضوع پر ایک معركة الآراء تقریر جوفن خطابت، روانی، زور بیان اور جذب و تاثیر کا ایک شاہکار تھی۔جس میں آپ نے بتایا کہ انسان عالم صغیر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں تعمیر و ترقی اور ارتقاء کی بلندی کی ہمہ گیر صلاحتیں موجود ہیں۔چاہئے کہ وہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں اور استعدادوں میں وہی ہم آہنگی و توازن ، ربط و ضبط اور اتصال پیدا کرے اور اس کے زیر اثر اپنی شخصیت کو بنانے اور شخصی کمال کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگار ہے۔آپ نے ذرائع پر بھی روشنی ڈالی اور قرآن مجید کی آیات سے بتایا کہ زندگی کو فائز المرامی سے ہمکنار کرنے کا تمام را از قرآن مجید کی بے مثال تعلیم کو مشعل راہ بنانے میں مضمر ہے۔(الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۵۹ء)