اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 230 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 230

230 سامنے طبع دوم کانسخہ ہے۔) اس وقت آپ ممبرا یگز یکٹیو کونسل وائسرائے ہند تھے۔ابتداء میں حضرت بقیہ حاشیہ : - (۴۹) مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زیر اہتمام ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے چوہدری صاحب نے دنیا میں مختلف معاشرتی نظاموں کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی باہمی کشمکش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلامی معاشرے کا عملی نمونہ پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔آپ نے بعض ایسی احتیاطوں کا بھی ذکر کیا کہ جن کو مدنظر نہ رکھنے سے تعاون ، اخلاص اور قربانی کی روح قائم نہیں رہتی۔مثلاً قواعد کی پابندی ضروری ہے لیکن قواعد کام میں سہولت پیدا کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔لیکن جو ان کی پابندی کو کام سرانجام نہ دینے کا بہانہ بنالے تو ظاہر ہے کہ وہ تعاون اور اخلاص کے جذبہ سے کام نہیں لیتا۔نیز آپ نے بعض ایسے چھوٹے چھوٹے رفاہی کاموں کی طرف بھی توجہ دلائی کہ جن کو فارغ اوقات میں سرانجام دے کر دنیا کے سامنے اسلامی معاشرے کا عملی نمونہ با آسانی پیش کیا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں آپ نے بتایا کہ بے شک اسلامی معاشرہ دیگر معاشروں سے افضل و برتر ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ معاشرہ ہے کہاں۔ہمیں اس چیلنج کا جواب دینا ہے۔ہمیں دیگر معاشروں سے متاثر ہونے کی بجائے اسلامی معاشرے کا کامل نمونہ پیش کرنا چاہیئے۔اور اہل ربوہ پر بدرجہ اولیٰ یہ فرض عائد ہوتا ہے۔مال جان اور علم و فہم اور دیگر صلاحیتوں کو بشاشت قلب کے ساتھ ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہوئے بنی نوع انسان کی خدمت میں لگاؤ۔یہ تبلیغ کا انتہائی مؤثر الفضل ۲۸ و ۲۹ جنوری ۱۹۵۹ء) (۵۰) جامعہ احمدیہ میں منعقدہ ایک مذاکرہ علمیہ میں آپ نے حصہ لیا۔”ہدایت انسانی کے لئے وحی والہام کے تواتر کی ضرورت“ موضوع تھا۔(الفضل ۵٫۲٫۵۹) (۵۱)۱۶/۱/۶۰ کو کل پاکستان باسکٹ بال مقابلہ کے اختتام پر ربوہ میں آپ نے نامور کھلاڑیوں۔خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ کھیل میں ہار جیت کو نہیں بلکہ مقابلے اور مسابقت کی اس روح کو اصل اہمیت حاصل ہوتی ہے جس کے تحت کھیلوں میں حصہ لیا جاتا ہے۔ہمارے کھلاڑیوں کو زندگی کے تمام مقابلوں میں اسی جذبے کے ساتھ حصہ لینا چاہیئے۔(الفضل ۱۹/۱/۶۰) (۵۲) ۶۰ /۱۷ /۲۴ کو (۱۹۵۹ء کے ملتوی شدہ جلسہ سالانہ میں ) اخروی زندگی پر تقریر ( الفضل ۳/۲/۶۰) (۵۳) احمد نگر میں جماعت کو آپ نے اس امر کی تلقین کی کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی اصل روح کو پورے طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرما کر ہمیں جتنے بڑے انعام سے نوازا ہے۔اسی نسبت سے ہماری ذمہ داریاں بھی بہت اہم ہیں۔انعام الہی کا حصول بڑی خوش نصیبی پر دال ہے لیکن وہ اس کی ذمہ داری کی نوعیت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کی کماحقہ ادا ئیگی اور اسلام کا عملی نمونہ پیش کئے بغیر اپنی اہم ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔( الفضل ۳۰/۱/۶۰) ذریعہ ہے۔ޏ