اصحاب احمد (جلد 11) — Page 226
226 (۴) ” میری والدہ سائز ۳۰/۱۶ × ۲۰ صفحات (۱۲۸) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ اس بارہ میں تحریر فرماتے ہیں: مکر می چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اس مختصر کتاب میں اپنی والدہ صاحبہ مرحومہ کے بقیہ حاشیہ: - داخلہ بند بھی کر دیا جائے۔تو بھی وہ سیاسی اور اقتصادی طور پر عربوں کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بنے رہیں گے۔باہمی عناد اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ مفاہمت کی کوئی امید نہیں اور یہودی به جبر بھی یہودی ریاست قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اور اگر یہودی ریاست قائم ہوگئی تو وہ ہمسایہ عرب ممالک سے بھی علاقوں کا مطالبہ کریں گے۔اور نئی مشکلات پیدا ہو جا ئیں گی۔یہ بھی بیان کیا کہ یہودی سرمایہ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ کوئی آزاد اقدام نہیں کر سکتے۔سیاسی حلقوں میں بھی یہودیوں کا اثر کم نہیں۔دارالعوام میں چھپیں ممبر یہودی ہیں۔دو وزیر اور ایک سیکرٹری آف سٹیٹ یہودی ہیں اور امریکہ میں بھی یہودی ملک کی سیاسی مشین پر اثر انداز ہیں۔(الفضل ۲۶/۱/۴۶ ص ۱۲ و ۳۱/۱/۴۶) خاکسار مؤلف نے بھی یہ تقریر سنی تھی۔صدر کے پاس ان قوی دلائل کا کوئی جواب نہ تھا۔اس نے اس مسئلہ کے جواز میں صرف یہ کہا کہ قرآن مجید کی رو سے یہود نے فلسطین میں پھر آباد ہونا تھا۔جو پورا ہورہا ہے۔جس کا چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ وہاں یہ بھی ذکر ہے کہ یہودیوں کا یہ داخلہ عارضی ہوگا۔(۳۳) حیاة آخرة - تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۹ء (۳۰/۱۶×۲۰ ) کے سائز پر باسٹھ صفحات میں دسمبر ۱۹۶۰ ء میں شائع ہوئی۔(۳۴)۲۴/۶/۵۲ کو کراچی میں خطبہ عید الفطر دیا۔(الفضل ۲۷/۶/۵۲) (۳۵) مغرب میں اسلام سے بڑھتی ہوئی دلچسپی ، تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء (الفضل ۱۴ تا ۱۷ارجنوری ۱۹۵۷ء ) ۴۸ صفحات میں (۳۰/۱۶×۲۰ ) کے سائز پر الگ بھی شائع کی گئی۔سن مرقوم نہیں۔(۳۶) ۱۷/۱۲/۵۷ کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں اقوام متحدہ کی تنظیم اور بالخصوص عالمی عدالت انصاف کے فرائض اور دائرہ عمل پر ایک مفید معلوماتی تقریر۔(۱۹/۱۲/۵۷۱ص۱)۔(۳۷) ۱۹/۱۲/۵۷ کو آپ نے ایک استقبالیہ تقریب میں اس امر پر زور دیا کہ قرآن مجید کی زبان عربی کو جسے دینی نقطہ نگاہ سے بنیادی اہمیت حاصل ہے ، زیادہ سے زیادہ اپنانے اور مقبول