اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 223 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 223

223 66 مارچ ۱۹۲۴ء طابع حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی۔یہ آپ کا فاضلانہ مقالہ ہے جو بطور امیر جماعت لاہور آپ نے کانفرنس مذاہب منعقدہ حبیبیہ ہال لاہور میں ۲۷/۱/۲۴ کو بقیہ حاشیہ: - (۱۸) ۹/۱۲/۴۰ کو آپ کے ٹاٹانگر تشریف لے جانے پر جماعت احمد یہ اور خدام الاحمدیہ نے ایڈریس پیش کئے۔آپ نے ایک گھنٹہ تک تقریر دلپذیر میں نہایت قیمتی نصائح بیان کرتے ہوئے بتایا کہ لوہا بھٹی میں آگ بنتا ہے تو اس سے کام کی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔سومومن جب تک اللہ تعالیٰ کی آزمائش میں پورا نہیں اترتا اور صبر و استقلال سے کام نہیں لیتا کامیابی اس کے لئے محال ہے۔موجودہ جنگ نظاموں کی جنگ ہے۔اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے مطابق یہ عذاب ہے۔اور نئی زمین اور نئے آسمان کے لئے راستہ صاف ہو رہا ہے۔ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں۔اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر قربانی کریں۔تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھ لیں۔(الفضل ۱۵/۱۲/۴۰) (۱۹) ۴۱ / ۱ / ۲۷ کو ہارڈ نگ لائبریری دہلی میں خواجہ حسن نظامی صاحب نے ” آج سے دو سو سال قبل دہلی کے اہل فضل و کمال پر تقریر کی۔بعد ازاں صاحب صدر چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ خواجہ صاحب کی تقریر کے ساتھ افسردگی کا بوجھ میری طبیعت پر بڑھتا گیا۔انہوں نے اس زمانہ کے حالات بیان کئے جب ایک تمدن عروج کے بعد انحطاط پذیر ہورہا تھا۔حتی کہ وہ بالکل مغلوب ہو گیا۔چوہدری صاحب نے ایک پر امید منظر پیش کیا اور فرمایا کہ اگر دہلی کو ہندوستان کا نمونہ تصور کیا جائے تو میں آج سے سو دو سو سال بعد کا دہلی کا منظر پیش کرتا ہوں اس وقت دہلی بلکہ ہندوستان بلدة طيبة و رَبِّ غَفُورٌ کا منظر پیش کرے گا۔انسان اپنے رب سے صلح کر چکا ہو گا۔قوموں کے درمیان اس رنگ میں صلح ہو چکی ہوگی کہ انہیں تسلیم کرنا ہو گا کہ تمام اقوام برابر ہوں کسی کو دوسری پر برتری نہیں اور غلبہ حاصل کرنے کا حق نہیں۔افراد میں صلح ہو چکی ہوگی۔حکومت کے اختیارات ان کے اہل کے سپر د ہوں گے۔حکام و رعایا سب قانون کے پابند ہوں گے۔خاندانی اور ذات پات کا امتیاز ختم ہو چکا ہوگا۔حقیقی عزت کا معیار صرف خوف خدا ہوگا۔دولت صرف چند ہاتھوں میں چکر نہ لگائے گی۔آپ نے فرمایا کہ یہ اسلامی تمدن کا منظر ہے جس کے مستقبل میں غلبہ کا میں نے ذکر کیا ہے۔موجودہ مغربی تمدن عالمگیر جنگ دوم کے بعد یقیناً معدوم ہو جائے گا۔یورپی تمدن سترھویں صدی کے آغاز سے ترقی کرتے کرتے غالب آیا۔اب اسلامی تمدن جس کی بنیاد ۱۸۸۹ء میں رکھی گئی تھی پچھتر سال میں ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۴ء تک نمایاں چمک