اصحاب احمد (جلد 11) — Page 205
205 معززین راہ ہدایت پاچکے ہیں۔اور کئی ایک کو سلسلہ سے شدید انس پیدا ہوا۔اور کئی آپ کے ذریعہ نور احمدیت سے منور ہوئے اور دوسروں کے لئے شمع ہدایت بن رہے ہیں۔آپ کی شاندار دینی بقیہ حاشیہ: - کو مبارک باد دی کہ ان کے شاگرد نے خوب کام کیا۔انا للہ۔ہندو روزنامہ پر تاپ لاہور نے بھی اپنی ۱۲۱ اپریل کی اشاعت میں اس شوریدہ سری کو بہت ۱۱۸ 119 112 نا پسندیدہ قرار دیا۔۱۲/۱۰/۲۳ کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ لاہور تشریف لے گئے۔وہاں پلیٹ فارم پر ایک ترتیب و انتظام کے تحت احباب نے مصافحہ کیا۔بعدہ حضور چوہدری صاحب کی موٹر میں ان کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔۱۴ نومبر کو ”پیغام صلح اور موجودہ مشکلات کے حل پر ہندو مسلم مسلح کے تعلق میں حضور نے تقریر فرمائی۔صدارت کے لئے چوہدری صاحب نے شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر کا نام تجویز کیا تھا۔صاحب صدر نے ابتدا میں بتایا کہ امام جماعت نے اپنی زندگی مذہبی معاملات پر غور و فکر کے لئے وقف کر رکھی ہے اور حضور کی تقریر کے بعد کہا کہ آپ نے جامع اور پُر مغز تقریر کی ہے اور سیاسیات پر ایسی وسعت سے روشنی ڈالی ہے کہ زبان اور دل سے تحسین نکلتی ہے۔آپ نے ایسی عمدگی سے اتفاق اور اتحاد کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے جس کی سیاسی رہنماؤں سے توقع نہیں ہوسکتی۔نیز صاحب صدر نے حضور کی آئندہ روز کی تقریر کا اعلان کیا۔اگلے روز اسلامیہ کالج کے حبیبیہ ہال میں میاں فضل حسین و زیر تعلیم حکومت پنجاب کی صدارت میں حضور نے ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخالفین“ کے مضمون پر تقریر فرمائی۔صاحب صدر نے ابتداء میں کہا کہ حضرت مرزا صاحب ( مسیح موعود ) مرحوم جن سے مجھے ذاتی شرف نیاز حاصل تھا، بڑا اعلیٰ رتبہ رکھتے تھے۔آپ نے اور آپ کے رفقاء نے اسلام کی بڑی بھاری خدمت کی اور چالیس پچاس سال قبل عیسائیت اور آریہ سماج کی طرف سے جو حملے اسلام پر ہوتے تھے ، ان کی تردید کی اور ہمیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔اس کام کو موجودہ امام جماعت احمدیہ نے جاری رکھا ہوا ہے۔چنانچہ فتنہ ارتداد ملکانہ میں آپ نے اور آپ کے رفقاء نے اسلام کی بڑی خدمت کی۔۱۶ نومبر کی رات کو طلباء کالج نے حضور اور حضور کے رفقاء کی دعوت چوہدری صاحب کی کوٹھی پر کی۔جماعت لاہور نے مہمانوں کی خاطر تواضع اور انتظام نہایت تن دہی سے کیا۔چوہدری صاحب ١٢٠ کے ہاں جو مہمان فروکش تھے۔آپ کی طرف سے نہایت اخلاص و محبت سے ان کی تواضع کی گئی۔۱۲۱