اصحاب احمد (جلد 11) — Page 201
201 کے لئے اسی مرکز سے استمداد کی ضرورت ہوتی تھی اور مرکز احمدیت ( قادیان ) کی مرکز صوبہ میں نمائندگی بھی مضبوط ہونی چاہئے تھی۔خصوصاً ۱۹۱۹ء کے مارشل لاء کے ہولناک ایام میں جبکہ یہ بھی خطرہ تھا کہ مبادا جماعت کے احباب کو مخالفین نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔نیز ہندوستان میں جماعت کی مخالفت کا گڑھ پنجاب ہی تھا۔مزید برآں پانچ سال قبل خلافت سے منقطع ہونے والے حصہ نے بھی یہیں ڈیرہ ڈالا ہوا تھا۔اس لئے بھی اس مبائع جماعت لاہور کا استحکام از بس ضروری تھا۔آپ نے اپنے عرصہ امارت میں سید نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی لاہور میں آمد سے خوب استفادہ کیا اور تبلیغ اور حضور کی علمی قابلیت کا لوہا دوست طبقہ سے منوالیا۔اور چوہدری صاحب کی قابلیت و مقبولیت کے باعث اخبارات میں بھی ذکر آنے لگا۔مرکز میں یہ تاثر تھا اور بجا طور پر تھا کہ آپ ان چند ا حباب میں سے ہیں جو اپنے طور پر تبلیغ میں زیادہ حصہ لیتے ہیں۔آپ ہی کی تبلیغ سے علامہ اقبال کے برادر اکبر شیخ عطاء محمد صاحب نے بیعت خلافت کی * ( الفضل ۱۰/۴/۳۴ص۲) تفصیل مذکورہ بالا سے یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو مثالی رنگ میں امارت لاہور میں قیادت وخدمت کا موقعہ ملا۔جب ۱۹۳۵ء میں آپ کا تقرر بطور ممبر کونسل نظر ثانی کے وقت خاکسار کو ذیل کا حوالہ دستیاب ہوا۔حضور نے ۱۶/۲/۱۹ کو لاہور میں خطبہ جمعہ میں فرمایا : لاہور کی جماعت کو خاص طور پر متوجہ ہونا چاہیئے۔کیونکہ قادیان کے بعد اگر ہماری جماعت کا کوئی مرکز ہو سکتا ہے تو وہ لا ہورہی ہے۔جہاں ہر طرف سے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔اس لئے قادیان کے بعد اگر تبلیغ میں کوئی جگہ ممد و معاون ہو سکتی ہے تو وہ یہی جگہ ہے۔کیونکہ ہر طرف کے لوگ یہاں جمع 66 ہوتے ہیں۔اور پھر یہاں سے تمام ملک میں پھیل جاتے ہیں۔“ مسجد برلن کی تعمیر کے لئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے صرف خواتین جماعت کو مالی قربانی کے لئے مخاطب کیا تھا۔بعض خواتیں کی خاص قربانی کا ذکر کرتے ہوئے حضور رقم فرماتے ہیں: ”ہمارے عزیز اور مخلص بھائی امیر جماعت لاہور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو چاہیئے کہ جماعت کے ہر حصہ کی عملی اور روحانی ترقی کی طرف توجہ