اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 200 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 200

200 (۱) امیر جماعت لاہور لاہور کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے مدنظر سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی اید واللہ تعالی کے لاہور تشریف لے جانے پر عہدیداروں کا جدید انتخاب کرایا اور محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو امیر اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سیکرٹری مقرر فرمایا۔اس وقت چوہدری صاحب کی عمر چھیں ستائیس سال کی تھی۔اور بعد ازاں حضور نے آپ کے حسن کارکردگی کی تعریف فرمائی۔آپ کو قریباً سولہ سال تک بطور امیر جماعت احمد یہ لاہور خدمات سلسلہ بجالانے کا فخر حاصل ہے۔قادیان پنجاب کے صوبہ میں واقع ہے۔صوبائی حکومت کا مرکز ہونے کے علاوہ دیگر بہت سی وجوہات سے اس کی اہمیت کہیں زیادہ تھی۔دیگر مراکز اضلاع بالعموم پسماندہ تھے۔کالجوں سے اور نئے زمانہ کی ترقیات سے بہرہ ور نہ تھے۔اس لئے لاہور کی امارت اور اس کی ذمہ داری ایک خاص امتیاز کی حامل تھی۔وہاں کی جماعت کا استحکام جماعت احمدیہ کے مرکز بلکہ تمام صوبہ کی جماعتوں پر ایک خاص اثر رکھتا تھا۔صوبائی مرکز ہونے کے باعث جماعت ہائے پنجاب کے افراد کو د نیوی امور بقیہ حاشیہ: (۱) صدارت جلسہ سالانہ مثلاً ۱۷/۱۲/۵۶ کے پہلے اجلاس کی۔(الفضل ۴/۱/۵۷ ص ۵ و ۷ ۵/۱/۵ص ۶ ک۲) " (ب) ۱۹۵۸ء تا ۱۹۶۰ ء ہر سہ سال آپ مجلس مرکز یہ انصار اللہ کے اراکین خصوصی میں شامل کئے گئے۔(الفضل ۹۵/۲/۵۸ ۲/۱/۶۰۱۸/۱/۵۹) (ج) مجلس افتاء کے اعزازی رکن بموجب اعلان حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ( الفضل ۱۴/۶/۶۳) حضور نے ۱۹۲۰ء کے جلسہ سالانہ میں تقریر میں فرمایا کہ عہد خلفاء کرام کی طرح تجربہ کے طور پر دو جماعتوں میں امراء کا تقرر کیا گیا اور فرمایا : ” دوسرے لاہور کی جماعت کے امیر چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب مقرر ہوئے۔ان جماعتوں کی حالت اب بہت اچھی ہے اور میں مشورہ دیتا ہوں حکم نہیں کہ سب جماعتیں ایسا ہی کریں اور ایک شخص کو تجویز کر کے ہمیں اطلاع دیں۔“ حضور کی نظر میں آپ بطور امیر جماعت لاہور بہت کامیاب تھے، اور حضور کے اس بارہ میں اظہارات دوسرے مقامات پر درج کئے گئے ہیں۔