اصحاب احمد (جلد 11) — Page 198
198 کی قسم کے پانچ عدد پھل اور پانچ روپے رکھے ہیں اور ایک طلائی زیور ہے، جسے پنجابی میں تیلا یا تیلی کہتے ہیں اور جو ناک میں پہنا جاتا ہے۔اس خادم نے والد صاحب کا نام لیا کہ وہ یہ پھل لائے ہیں۔والدہ صاحبہ نے رویا ہی میں کہا کہ یہ تو وہی پھل ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ پکے گا تو میں بقیہ حاشیہ:۔جس سے چودھری ظفر الله تعلق رکھتے ہیں ،تسلیم نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ یہ فرقہ ہندوستان میں برطانیہ نے اپنے دور اقتدار میں بنایا تھا۔اور اس کا مقصد جہاد کو روکنا اور برطانوی سامراج کو تقویت پہنچانا تھا۔شیخ محمد خیر نے اپنے بیان میں مزید کہا۔چونکہ از روئے شریعت کسی مسلمان لڑکی کی شادی کسی ایسے شخص سے جائز نہیں قرار پاسکتی جو اسلام کے نظریہ جہاد کا منکر ہو۔انہوں نے اپنے بیان میں پاکستانی سفارت خانہ میں اس شادی کی تقریب منانے پر بھی احتجاج کیا ہے۔اور یہ بات واضح کر دی ہے کہ شام کے مفتی اعظم یہ فتوی صادر کر چکے ہیں کہ قادیانی فرقہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔(۵۶-۶-۹) معزز معاصر ”ریاست“ اس بارہ میں رقمطراز ہے:۔وو چودھری سر ظفر اللہ خاں کی شادی کے سلسلہ میں شام کے مفتی کا اس شادی کے ناجائز قرار دینے کے متعلق فتوی دینا اس مفتی کی انتہائی فتنہ پردازی کا ثبوت ہے۔کیونکہ یہ فتویٰ صرف اس لئے دیا گیا کہ چوہدری صاحب احمدی ہیں۔حالانکہ چوہدری صاحب عرب کے تمام ممالک کو ہمیشہ لیڈ کرتے رہے اور چوہدری صاحب کے مشوروں کے باعث ہی ان ممالک کی سیاسی پوزیشن بلند ہوئی۔یعنی چوہدری صاحب نے ان مسلم ممالک کی ہمیشہ ہی خدمت انجام دی جس کی وجہ سے ان کا خود عملی حیثیت سے ایک بلند مسلمان ہونا اور اسلام سے محبت کے انتہائی جذبات رکھنا تھا۔(۵۶-۶-۱۱) چونکہ خاتون موصوفہ کی کم عمری اور جہیز کی حد سے زیادتی کو اخبارات نے خاص طور پر اچھالا تھا۔اس لئے ”ریاست“ نے ہر دو امور کی تردید کی حق مہر تیرہ ہزار چھ سو روپیہ تحریر کیا۔اور جہیز پچپن روپے کی ایک انگوٹھی۔(۵۶-۶-۱۸) اور یہ کہ خاتون ایک سرگرم احمدی کی دختر ہیں۔اور ڈاکٹری مشورہ پر کہ عدم شادی سے صحت کو نقصان پہنچے گا۔آپ نے شادی کی ہے۔