اصحاب احمد (جلد 11) — Page 9
9 اور آپ نے پھر وہی جواب دیا۔اس موقعہ پر رفیق کے نانا صاحب نے بھی اصرار کیا کہ آخر اتنی کونسی بڑی بات ہے۔چند روپوں کا معاملہ ہے۔جو کچھ یہ مانگتی ہے۔اسے دے دو۔اور اگر تمہیں کوئی عذر ہے تو ہم دے دیتے ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ یہ چند روپوں کا معاملہ نہیں۔یہ میرے ایمان کا امتحان ہے۔کیا میں یہ تسلیم کرلوں کہ میرے بچے کی زندگی اس عورت کے اختیار میں ہے؟ یہ تو گھلا شرک ہے۔اگر میرے بچے کو اللہ تعالیٰ زندگی دیگا تو یہ زندہ رہیگا۔اور اگر وہ اسے زندگی عطا نہیں کریگا تو کوئی اور ہستی اسے زندہ نہیں رکھ سکتی ہیں تو اپنے ایمان کو شک میں ہر گز نہیں ڈالوں گی۔بچہ زندہ رہے یا ندر ہے۔دو ماہ خیریت گزرے۔جے دیوی اکثر ملتی رہتی تھی۔اور آپ اُس سے بے تکلفی سے باتیں کیا کرتی تھیں۔اور آپ کی طبیعت پر قطعاً کوئی خوف نہ ہوتا تھا۔جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔بچہ چنگا بھلا رہا۔لیکن پھر آپ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ اُن کے گاؤں کی ایک عورت شکایت کر رہی ہے کہ اس کے بچے کا کلیجہ جے دیوی نے نکال لیا۔اور کسی نے اُس سے باز پرس نہیں کی۔اگر کسی صاحب اقتدار کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا تو وہ جے دیوی کو ذلیل کر کے گاؤں سے نکال دیتے۔آپ نے خواب میں ہی جواب دیا کہ موت اور حیات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔جے دیوی کا اِس میں کچھ واسطہ نہیں۔میرے بچہ کے ساتھ بھی تو بظاہر ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔لیکن ہم نے توجے دیوی کو کچھ نہیں کہا۔آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ خواب میں آپ نے دیکھا کہ گویا ایک طرف سے کوئی کھڑ کی کھولی گئی ہے۔اور اُس میں سے بے دیوی کا چہرہ نظر آیا۔اور آپکو مخاطب کر کے جے دیوی نے کہا کہ اچھا اب کی بار بھی اگر بچے کو زندہ واپس لے گئیں تو مجھے کھتری کی بیٹی نہ کہنا ، چو ہڑے کی بیٹی کہنا ““ آپ کی دہشت سے آنکھ کھل گئی۔دیکھا کہ چراغ گل ہو چکا ہے۔آپ کی عادت تھی کہ اپنے سونے کے کمرے میں روشنی ضرور رکھا کرتی تھیں۔اور فرمایا کرتی تھیں کہ جب بھی خواب میں جے دیوی نظر آیا کرتی تھی تو آنکھ کھلنے پر ہمیشہ کمرہ اندھیرا ہوا کرتا تھا۔چنانچہ آپ نے اپنی والدہ صاحبہ کو آواز دی۔جو اسی کمرہ میں سو رہی تھیں۔انہوں نے چراغ روشن کیا۔آپ خواب سُنا رہی تھیں کہ رفیق نے خون کی قے کی اور ساتھ ہی اُسے خون کی اجابت بھی ہوئی اور نیم مردہ سا ہو گیا۔چنانچہ آپ بہت گھبرا ئیں۔اس خیال سے کہ اسکے دادا تو اسے آنے ہی نہیں دیتے تھے۔اور اب اگر ظفر کی طرح یہ بھی یہیں فوت ہو گیا تو آپ کا تو ڈسکہ میں کوئی ٹھکانا نہیں۔