اصحاب احمد (جلد 11) — Page 191
191 دورہ کیا تھا۔جہاں آپ کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔اور وہاں کے اخبارات نے بڑی جلی سرخیوں سے آپ کے دورہ کی خبریں شائع کی تھیں۔چنانچہ دمشق کے مشہور اخبار الایام“ نے لکھا:۔ظفر اللہ خاں کا دارالحکومت شام میں زبر دست خیر مقدم کیا جائے گا۔آپ نے ہر سیاسی مجلس اور ہر د ولی محفل میں انسانیت ، انصاف اور حق کی آواز بلند کی ہے۔ظفر اللہ خاں وہ شخصیت ہے۔جس نے عرب ممالک کے معاملات کی ترجمانی کرنے میں اپنا انتہائی زور صرف کر دیا۔اس کا نام عربوں کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیش کے لئے آب زر سے لکھا جاتا رہے گا۔آپ کی ضمیر ایمان سے بھر پور ہے۔آپ کی گفتار حجت و دلیل کی حامل ہوتی ہے۔آپ کے پیش نظر تمام انسانیت کی سچی اور بے لوث بھلائی رہتی ہے۔ہم آج عزت تاب محمد ظفر اللہ خاں کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔تو ہم ایمان عقیدہ اور انسانیت رکھنے والے ایک ایسے شخص کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔جو دنیا کے لئے ایک مثالی اور پاک وصاف تمدن و معاشرت کا خواہاں ہے۔جو بھائی چارے کی ایک ایسی فضا کا خواہش مند ہے ،جس میں حیاتِ انسانی کو خوب اچھی طرح پھلنے پھولنے کا موقعہ مل سکے اور کسی انسان کے حقوق پر اس کا کوئی بھائی بند چھا پہ نہ مار سکے ،،۔10656 ۲۲ جون کے اخبار الجدیدہ میں مفتی صاحب کی طرف سے ایک نام نہاد فتویٰ شائع ہوا۔جس میں اس نے قادیانی فرقے کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خاں پر بھی نا مناسب حملے کئے۔اس فتویٰ کی اشاعت پر مفتی کے خلاف اس قد رغیظ و غضب کا اظہار کیا گیا کہ اسے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اپنے سابقہ فتوی کی وضاحت کرنی پڑی۔اور اس نے یہ کہ کر پیچھا چھڑانا چاہا کہ میرا بیان سیاسی نوعیت کا نہیں تھا۔اسی روز عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن عزام پاشا نے بھی مفتی کے رویہ پر شدید نقطہ چینی کی۔آپ نے اخبار "الجدیدہ میں (جس میں نام نہاد فتویٰ شائع ہوا تھا) ایک بیان شائع کرایا۔اس میں آپ نے فرمایا: مجھے سخت حیرت ہوئی کہ آپ نے قادیانیوں یا چوہدری محمد ظفر اللہ خاں