اصحاب احمد (جلد 11) — Page 167
167 آپ کا ذکر خیر بموجب حدیث نبوی ابد تک نزول رحمت الہی کا باعث ہوگا۔آپ جب اس عالم میں موجود تھیں ہم سب کے لئے دعائیں فرماتی تھیں۔اب اس احسان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اکثر آپ کے درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔اللهم صلی علی محمد و علی آل محمد و علی اصحاب محمد و علی عبد المسيح الموعود وعلى اصحاب المسيح الموعود و بارک وسلم انک حمید مجید“۔(الفضل ۱۹٫۰۶٫۳۸) ہر طبقہ کی طرف سے خراج تحسین ، اور عالم اسلامی کا اظہار اعتماد و یقین اور مخالفین کے اعتراضات قابل صد نفرین مذہبی تعصب کا اظہار کرتے ہوئے بعض لوگوں نے آپ کی مخالفت کی۔بطور مثال کے بعض اقتباس درج ہیں۔ہفت روزہ المنبر لائل پور جومودودی خیالات کا ترجمان ہے، لکھتا ہے: ملت دوستی اور حکومت سے خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ قبل از وقت یہ صراحت کر دی جائے کہ سر ظفر اللہ خان اس عہدے کے لئے ناموزوں ترین آدمی ہیں۔وہ بلا شبہ طویل تقریروں کے عادی ہیں۔لیکن چونکہ ڈپلومیسی اور مغربی اقوام سے مرعوب ہو کر بات کرنا انہیں اپنے روحانی پیشوا جناب مرزا غلام احمد صاحب سے ورثہ میں ملا ہے۔اس لئے ان کی یہ تقریر میں وقت ضائع کرنے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں اور آج کل کی دنیا میں یہ قدرو قیمت اور اثر سے تہی ہیں۔چنانچہ ملک کی تقسیم کے کیس سے اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی نمائندگی تک کے ہر معاملہ میں سر ظفر اللہ ناکام رہے۔علاوہ ازیں یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ وہ راسخ العقیدہ قادیانی ہیں۔اور قادیانیوں کے بارے میں مسلم ممالک کے احساسات و جذبات چند سالوں میں پہلے سے مختلف ہیں۔ایک اور اہم پہلو قابل توجہ یہ ہے کہ سر ظفر اللہ خاں صاحب کا محبوب مرکز قادیان بھارت میں ہے۔بنا بریں وہ جب بھی بھارت کے متعلق گفتگو کریں گے تو ان کے اس ایمانی مرکز کا تصوران پر غالب رہے گا۔اور وہ پاکستان کی نمائندگی نہیں کر پائیں گے۔ان حالات میں یہ بات کسی طرح