اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 5 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 5

5 طبیعت کا تقاضا پورا کر لیا مگر حضرت چوہدری صاحب کی رفیقہ حیات کے دل پر جو گذری ہوگی ، اُس کا اندازہ کوئی دردمند دل ہی کر سکتا ہے۔آپ فرماتے تھے کہ اب تو تعلیم کے لئے اتنی سہولتیں ہو گئی ہیں اور پھر بھی تم لوگ کئی قسم کے بہانے کرتے رہتے ہو۔ہمارے وقت میں تو سخت مشکلات تھیں۔اول تو اخراجات کی سخت تنگی تھی۔میں نے چھ سات سال کا عرصہ لاہور میں بطور طالب علم کے گزارا۔اور مٹیل کالج سے بی ، او، ایل کا امتحان پاس کیا۔ٹریننگ کالج سے نارمل سکول کا امتحان پاس کیا اور پھر مختاری اور وکالت کے امتحان پاس کئے۔اس تمام عرصہ میں گھر سے ایک پیسہ نہیں منگوایا۔جو وظائف ملتے رہے۔انہیں پر گزارا کیا۔گھر سے صرف آٹا لے جایا کرتے تھے۔اور وہ صرف اس مقدار کا کہ اس تمام عرصہ لاہور میں کبھی سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔وظیفہ بھی پہلے چار روپے ماہوار اور پھر چھ اور آٹھ روپے ماہوار تھا۔پھر قانون کے امتحانوں کے لئے یہ دقت تھی کہ اکثر کتب انگریزی میں تھیں اور انگریزی نہ جاننے والے طلباء کو بڑی دقت کا سامنا ہوتا تھا۔کیونکہ کئی کتب کے تراجم میسر نہ تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ لالہ لاجپت رائے صاحب کے ساتھ حصار اس غرض کے لئے گئے تھے کہ وہاں کے ایک وکیل صاحب کی زیر نگرانی ایسے مضمون کی تیاری کریں۔جس کے نصاب کی کتب کا اُردو تر جمہ میتر نہیں تھا۔اُن دنوں ابھی حصار تک ریل نہیں بنی تھی۔اور بہت ساحصہ سفر کا پہلی یا یکہ کے ذریعہ کرنا پڑتا تھا۔باوجود ایسی مشکلات کے آپ مختاری اور وکالت دونوں امتحانوں میں اول رہے اور اس صلہ میں چاندی اور سونے کے تمغے انعام پائے۔آپ طالب علمی میں ایک شریف ، صاف گو اور قابل فخر طالب علم سمجھے جاتے تھے۔اور اس وجہ سے طلبہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔“ ( بیان حضرت عرفانی صاحب) وکالت کا امتحان پاس کرنے سے قبل آپ نے بطور مختار ڈسکہ ہی میں پریکٹس شروع کر دی تھی۔لیکن وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ نے سیالکوٹ میں پریکٹس شروع کی اور وہیں رہائش اختیار کی۔بچوں کی وفات پرانکی والدہ کا صبر :۔جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی ولادت سے قبل پانچ بچے فوت ہو چکے تھے۔ان میں