اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 150 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 150

150 حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اپنی نسبت فرمایا ہے:۔وو وہ ہے میں چیز کیا ہوں“ اسی طرح اس خادم کی کیفیت تھی۔” وہ ہی سب کچھ تھے۔میں کوئی چیز نہیں تھا۔حتی کہ آپ 66 66 اس کیفیت کے اظہار سے بھی کہ ”وہ“ ہے ” میں کچھ نہیں ہوں،شرماتے تھے۔زبان خاموش تھی۔دل جذبہ عشق سے سرشار تھا۔اس عشق سے معمور دل کی کیفیات کو اس دل کے پیدا کرنے والا ہی جانتا ہے۔ہاں جب عہد وفا پورا ہو چکا۔تو اسی آقا، اسی محبوب کے دربار سے جس کے در پر اس خادم نے دھونی رما ر کھی تھی ، یہ سند خوشنودی جاری ہوئی۔( یہ عبارت کتبہ ہے جو کتاب کے آخر پر درج ہے۔مؤلف ) اور وہ باوفا خادم منهم من قضى نحبه“ کے زمرے میں شامل قرار پایا۔رضی الله عنه آپ کا اخلاص اور اعلی تقوی اور جوش : حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۴/۴/۱۰ کو مجلس میں فرمایا: د میں دیکھتا ہوں ، اس وقت جماعت میں یکانت ایک جوش پیدا ہو گیا ہے اور ایسے لوگ جو کبھی بولتے نہ تھے اور خاموش تھے۔اب تو وہ بھی تقریر کرتے ہیں اور سلسلہ کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے بڑے سرگرم ہیں جیسے ہمارے مولوی شیر علی صاحب اور چوہدری نصر اللہ خاں صاحب“۔(الحکم ۷/۵/۱۴ ( ص ۵ ک۱) مؤقر الحکم میں مرقوم ہے: ’ چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے چا کا انتقال ہو گیا۔حضرت خلیفہ امسیح نے ان کا جنازہ غائب جمعہ کی نماز کے بعد پڑھا۔اور چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے اس ایثار و قربانی کا ذکر فرمایا کہ باوجود یکہ ان کی علالت کی خبر آ چکی تھی۔مگر وہ محض سلسلہ کے کاموں اور مجلس مشاورت کے قریب آجانے کی وجہ سے نہ جا سکے۔(۷٫۱۴ اپریل ۱۹۲۵ء)