اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 149 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 149

149 کی تعطیلات میں قادیان حاضر ہوئے ، تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں گزارش کی کہ اگر حضورا جازت دیں، تو میں یہ کام چھوڑ کر زندگی کے بقیہ ایام خدمت دین میں گزاروں۔حضور نے فرمایا اپنے پیشے میں دیانت کی مثال قائم کرنا یہ بھی دین کی خدمت ہے۔آپ پوری دیانت اور احتیاط سے کام کرتے رہیں ، استغفار بہت کیا کریں۔اور اپنی آمد میں سے صدقہ و خیرات اور خدمت دین کے لئے صرف کرتے رہیں۔چنانچہ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں آپ نے اپنا کام جاری رکھا۔حضور کے وصال کے بعد آپ نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پھر اپنی خواہش پیش کی تو حضور نے فرمایا۔جس بات کی حضرت صاحب علیہ السلام نے اجازت نہیں دی ،نور الدین کیسے اجازت دے سکتا ہے۔آخر خلافت ثانیہ کے ابتدائی سالوں میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بصرہ کے ارشاد پر آپ نے وکالت کا کام ترک کر دیا اور ہجرت کر کے دارالامان حاضر ہو گئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ کے ساتھ آپ کو حد درجہ عقیدت اور محبت تھی اور ہر بات میں آپ حضور ایدہ اللہ کا نہایت ادب اور احترام ملحوظ رکھتے تھے۔جب ہجرت کر کے دارالامان حاضر ہوئے تو حضور ایدہ اللہ سے اجازت لی تھی کہ سال بھر میں دو ماہ کا عرصہ اپنے وطن جاسکیں لیکن جب اجازت طلب کرنے کی ضرورت ہوتی تھی تو اکثر اس موقعہ کی انتظار فرمایا کرتے تھے کہ خاکسار دار الامان حاضر ہو اور حضور ایدہ اللہ سے آپ کے لئے رخصت طلب کرے۔فرمایا کرتے تھے۔میں حضور ایدہ اللہ کی خدمت میں کوئی گزارش کرنے میں سخت حجاب محسوس کرتا ہوں۔ایک موقعہ پر حضور ایدہ اللہ کو صدرانجمن کی کسی کا رروائی پر کچھ ٹنگی ہوئی۔آپ ناظر اعلی تھے۔آپ حضور ایدہ اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم تو یہاں اللہ تعالیٰ کی رضاء اور حضور کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آکر بیٹھے ہوئے ہیں۔قواعد کی تعبیر کے ساتھ غرض نہیں۔حضور اپنے منشاء مبارک کا اظہار فرما دیں ہم اس کے مطابق تعمیل کریں گے۔دو لیکن میری کیا حیثیت ہے کہ میں آقا اور خادم - محبّت اور محبوب کے درمیان صدق وصفا کی کیفیات کو ضبط تحریر میں لاسکوں۔وہ خادم۔وہ محبت نہایت عاجز اور مسکین تھا۔اپنے تئیں کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا۔بیعت کے دن سے اپنے تئیں اپنے آقا کے ہاتھ پر بکا ہوا شمار کرتا تھا۔اور اس سودے پر فرحاں و نازاں تھا۔میں درمیان سے گر چکی تھی۔اور صرف وہ ' باقی رہ گئی تھی۔جیسے 0 دو