اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 144 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 144

144 دیا اور میں حکام ریاست سے گفت و شنود کرنے اور مقابلہ کی انتہائی ہدایات لے کر چلا گیا۔حضرت چوہدری صاحب کو بھی اس معرکہ میں شریک ہونے کا حکم مل گیا۔چوہدری صاحب باوجود یکہ نحیف الجثہ تھے۔اور ساری عمر خدا کے فضل وکرم سے انہوں نے ہر طرح آرام و آسائش میں گزاری تھی۔پھر عمر کا آخری حصہ اور یوپی کی خوفناک گرمی کے ایام۔مگر وہ مجھ سے زیادہ ہمت اور حوصلہ کے ساتھ میرے شریک کار ہوئے۔میں اس زمانہ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔چوہدری صاحب کی زندگی کا مطالعہ کرنے کا مجھے کافی موقع ملا۔ہم کو بعض اوقات مشورہ دیا گیا کہ اکران میں نہ ٹھہر ہیں۔مگر ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہم اس کو نہیں چھوڑیں گے۔چنانچہ ہمارا ڈیرہ اکران میں تھا۔پانی کی تکلیف اور گرمی کی شدت ، رہنے کو جگہ نہیں۔چاروں طرف دشمنوں کا حلقہ اور حکام ریاست ان کے مددگار۔مگر خدا شاہد ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ ہم اکران کے مقام پر اس طرح ڈٹے ہوئے تھے کہ حکام کو بھی حیرت ہوتی تھی۔قریباً ہر روز بھر تپور جانا پڑتا تھا۔وہاں کے ارکان سلطنت سے دو بدو باتیں ہوتی تھیں۔اور ان کو حیرت ہوتی تھی کہ کس طرح پر ہم ان کے گھر پہنچ کر بغیر کسی ادنیٰ سے خوف کے ان وو سے ان حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہر شخص کو قا نو نا حاصل ہیں۔چوہدری صاحب اس وقت بھی ناظر اعلیٰ تھے۔لیکن مقامی امیر کی حیثیت سے اس وقت ہم چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے ماتحت تھے۔میں نے ہمیشہ بار یک طور پر اس کا مطالعہ کیا۔چوہدری صاحب قبلہ کو ان احکام اور ہدایات کی پابندی میں نہایت خوش پایا جو امیر مجاہدین دیتے تھے۔غرض وہ ایک بچے اور حقیقی مومن اور مسلم تھے۔ان کی زندگی ہر میدان میں سبق اور خضر راہ ہے۔الفضل میں ان کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے حفظ قرآن کا تذکرہ کیا جا چکا ہے اور یہ معمولی امر نہیں ، اس پیرانہ سالی میں جبکہ دماغ زیادہ محنت برداشت نہیں کر سکتا۔انہوں نے خدا کی رضا کے لئے قرآن مجید کو حفظ کر لیا۔اور یہ ایک روح صداقت تھی ، جو ان کے اندر کام کرتی تھی۔کسی نے ان سے پوچھا تو کہا کہ قانون کی اتنی بڑی کتابیں حفظ کرلیں اور اب تک بہت بڑا حصہ نظائر کا یاد ہے۔خدا تعالیٰ کی کتاب کو حفظ نہ کرنا تو بہت بڑی غلطی ہے۔پھر قرآن کریم کو حفظ ہی نہیں کیا، اس کی تلاوت با قاعدہ کرتے رہتے تھے اور اس طرح پر ان کی زندگی کا ہر لحظہ خدا تعالیٰ ہی کے لئے ہو گیا تھا۔مختلف اوقات میں ان پر بیماری کے مختلف حملے ہوتے تھے لیکن وہ ذرا افاقہ پالینے پر پھر کام شروع کر دیتے تھے۔اور کبھی لمبا آرام کرنے کی خواہش ان میں نہ پائی جاتی تھی۔اور حقیقت میں