اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 140 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 140

140 جب انہوں نے ترک وکالت کی ہے۔اس وقت پورے زوروں پر ان کا کام تھا۔اور ایک معقول آمدنی تھی مگر انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی۔دنیا اپنی تمام خوبصورتیوں اور دلکش اداؤں کے ساتھ ان کے سامنے پیش ہوئی۔مگر انہوں نے باوجود قدرت وقوت کے اسے پرے پھینک دیا۔یہ تھی حقیقی قربانی۔یہ تھا گھر پھونک تماشہ دیکھنے کا نظارہ۔میں نے ایک حریص جاہ و مال کو دیکھا ہے کہ اس نے اپنی تقریروں میں بارہا کہا کہ میں نے چلتی وکالت پر لات ماری۔اور گھر پھونک تماشہ دیکھا۔خدمت اسلام کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان ساحرانہ الفاظ میں حقیقت کس قدر ہے۔چوہدری صاحب نے یہ قربانی کی اور کبھی ظاہر بھی نہ کیا کہ کیا کیا ہے؟ وہ شخص جو اپنی خدا داد دولت و حشمت اور خدا دا د عزت و وقار کے لئے اپنے ہمعصروں میں ممتاز تھے۔اور اپنی خاندانی حیثیت سے اپنی قوم کا عزیز اور محبوب تھا۔جس کے لئے حکومت کی طرف سے کسی خطاب یا آنریری خدمت کا حاصل کر لینا نہایت سہل تھا۔وہ دنیا کی تمام مالوفات کو چھوڑ کر با وجود امیر ہونے کے فقیر ہو گیا اور در محبوب پر دھونی رما کر بیٹھ گیا۔خدمت سلسلہ کے لئے وقف زندگی کاروبار ترک اس لئے کیا تھا کہ اب خدمت سلسلہ کے لئے عملاً زندگی وقف کردی جائے۔چنانچہ انہوں نے تمام جماعت کو اس کا عملی سبق دیا۔اور قادیان آکر مرکزی کاموں میں حصہ لیا۔انہوں نے کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ کیا کام ان کو دیا جائے۔اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں اپنے مقام اور کام کے لحاظ سے انہوں نے کبھی کسی نمائش کو پسند نہ کیا۔صیغہ جات نظارت میں وہ ناظر اعلیٰ تھے۔جو کام کے لحاظ سے سب سے بڑا عہدہ ہے اور صد رانجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ تھے۔مگر سچ یہ ہے کہ باوجود اپنے اس اعلیٰ مقام کے وہ اپنے آپ کو عام افراد سے ممتاز نہ سمجھتے تھے۔یہ معمولی امر نہیں بلکہ نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔انہوں نے اس منصب کو حکومت کا مقام نہیں سمجھا بلکہ خدمت کا مقام اور یہی وجہ ہے کہ جماعت کا ہر فردان کے لئے اپنے دل میں بے حد عزت اور عظمت رکھتا تھا۔اور نہایت محبت کے ساتھ ان کو دیکھتا تھا۔میں نہایت جرات سے یہ کہتا ہوں کہ افراد جماعت کو چوہدری صاحب قبلہ کے پاس جا کر اپنے حالات ، مشکلات اور ضروریات کا اظہار بہت سہل اور مرغوب ہوتا تھا۔یہ نسبت اس کے کہ وہ اپنے معاملات کا کسی ناظر متعلقہ سے