اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 132 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 132

132 ساتھ اس بارہ میں اتفاق کریں گے کہ حضور کی رائے درست تھی۔اور آپ کی اس نظر ثاقب نے حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ کو نظارت کی اہم ذمہ داری کے لئے منتخب فرمایا تھا۔جو ہر طرح سے اس کے لائق تھے۔(۱۰) تأثرات حضرت میر محمد الحق صاحب اذکرواموتاکم بالخیر “ کے زیر عنوان حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم ناظر ضیافت رقم فرماتے ہیں: حدیث شریف میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا قَطَعْتَ عُنُقَ اَخِیک یعنی کسی کی تعریف کرنا ایسا ہی خطرناک فعل ہے جیسا کہ کسی کو قتل کر دینا۔مگر دوسری طرف خود ہی فرمایا۔اُذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْر - یعنی اپنے فوت شدہ لوگوں کی خوبیوں کا ذکر کیا کرو۔ان دونوں حدیثوں میں تطبیق یوں ہے کہ تعریف کی ممانعت زندوں کے متعلق ہے۔اور زندہ جب تک اس دار الابتلاء میں زندہ ہے، ممکن ہے کہ وہ اپنی تعریف سن کر مغرور ہو جائے اور تکبر میں مبتلاء ہو کر تباہ ہو جائے۔مگر جو شخص فوت ہو چکا ہے اور اس دار الابتلاء سے گذر کر اس دار الاصطفاء میں پہنچ گیا ہے، اس کو تعریف سے کیا ڈر ہے۔کیونکہ وہاں نہ تکبر نہ غرور نہ بڑائی بلکہ اخواناً على سرر متقابلین کا کارخانہ ہو گا۔اس لئے مُردوں کی تعریف کا کوئی ڈر نہیں۔بلکہ سراسر فائدہ ہی فائدہ ہے۔کہ ان خوبیوں کے ذکر سے زندہ اصحاب متأثر ہو کر ان کے رویہ کو اپنا رویہ اور ان کے نمونہ کو اپنا نمونہ بنا کر ان کی خوبیوں سے متصف ہونے کی کوشش کریں گے۔اور اس طرح قوم میں نسلاً بعد نسل نیکیوں اور خوبیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔اس تمہید کے بعد میں اس حدیث کی تمثیل میں جناب چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔جن کا انتقال پر ملال دو اور تین ستمبر ۱۹۲۶ء کی درمیانی شب کے آٹھ بجے ہوا۔اناللہ وانا اليه راجعون - چوہدری صاحب موصوف ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔مجھے ان کی سابقہ زندگی سے پوری کیا ادھوری واقفیت بھی نہیں۔اس لئے میں صرف اس عرصہ کا ذکر کرتا ہوں کہ جب سے مجھے ان سے نیاز حاصل ہوا۔گو میں نے چوہدری صاحب کو سب سے پہلے ۱۹۰۴ء میں گورداسپور کے مقام پر دیکھا تھا۔جبکہ وہ ابھی سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل