اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 121 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 121

121 کرنے کی وجہ سے میری معلومات بڑھ گئی تھیں اور افسر جلسہ سالانہ حضرت میر محمد الحق صاحب کو میری وجہ سے بہت آرام اور اطمینان تھا۔جب میری تبدیلی بہشتی مقبرہ میں ہوگئی تو میر صاحب نے چوہدری صاحب سے کہا کہ آپ منشی محمد الدین صاحب کو فرماویں کہ وہ دفتر بہشتی مقبرہ کا کام ختم کرنے کے بعد جلسہ سالانہ کے دفتر میں آکر کام کیا کریں۔اس پر چوہدری صاحب نے فرمایا کہ جب وہ زائد وقت میں کام کریں گے تو آپ ان کو کیا معاوضہ دیں گے؟ میر صاحب نے فرمایا کہ میں پچاس روپیہ دے دوں گا۔چنانچہ مجھے چوہدری صاحب نے یہ سارا واقعہ سنا کر جلسہ سالانہ کا کام کرنے کا ارشاد فرمایا اور جلسہ سالانہ کا کام ختم ہونے کے بعد حضرت میر صاحب نے مجھے مطابق ریز ولیوشن نمبر ۱۱ مورخه ۲۳-۳-۲۴ مبلغ پچاس روپیہ دے دیا۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔ان ایام میں وصایا کی اشاعت اخباروں میں نہ ہوتی تھی۔حالانکہ بروئے رسالہ الوصیت و ضمیمہ الوصیت یہ ضروری تھا کہ ہر موصی اپنی وصیت کو دو اخباروں میں شائع کروائے۔اس پر مجھے چوہدری صاحب نے فرمایا کہ آئندہ ہر موصی سے اڑھائی روپیہ اعلان وصیت کے وصول کیا کرو۔دور و پیہ دو اخباروں کو دیا کرو اور نصف روپیہ خود لیا کرو۔اور ہر وصیت کی دو نقلیں کر کے دو اخباروں میں شائع کرنے کا انتظام رکھو۔لیکن یہ کام دفتری اوقات کے علاوہ کرنا چاہیئے۔چنانچہ اس کے مطابق عمل شروع ہو گیا۔لیکن چوہدری صاحب کی وفات پر میں نے یہ معاملہ مجلس کار پرداز میں پیش کر دیا۔جس کے صدر اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تھے۔فیصلہ ہوا کہ ایک روپیہ دو آنے اخبار الفضل کو اور ایک روپیہ کسی دوسرے اخبار کو اور چھ آنے محرر بہشتی مقبرہ کو دیئے جایا کریں۔اس طریق سے قانون وصیت بھی پورا ہو جاتا تھا اور مجھے بھی کسی قدر مالی فائدہ پہنچتا رہا۔حضرت چوہدری صاحب کے رہائشی مکان کے بالمقابل میرا ر ہائشی کوارٹر تھا۔بیچ میں بورڈنگ ہائی سکول والی سڑک تھی۔چوہدری صاحب دفتر جانے کے لئے تیار ہوکر آ جاتے اور مجھے آواز دے کر گھر سے بلاتے۔بعض دفعہ مجھے کچھ دیر ہو جاتی ، تو آپ میرا انتظار فرماتے اور پھر مجھے ساتھ لے کر دفتر جانے کے لئے روانہ ہوتے۔وو جب آپ حج کو جانے لگے تو اپنا جائے نماز ، قالین اور سوٹی مجھے دے گئے۔فرمانے لگے، اس پر نمازیں پڑھنا۔جب آپ حج سے واپس تشریف لائے تو مجھ سے فرمایا کہ میں نے آپ کے