اصحاب احمد (جلد 11) — Page 122
122 لئے اور آپ کی اولاد کے لئے بیت اللہ شریف میں بہت دعا کی ہے۔آپ مجھ سے بہت خوش تھے۔بہت محبت کرتے تھے۔مجھ سے ماتحتوں والا نہیں بلکہ بیٹوں والا سلوک فرماتے تھے۔آپ نے وفات سے قبل ایک دفعہ مجھ سے فرمایا کہ میں نے کچھ روپیہ صدرانجمن احمدیہ کے خزانہ میں اپنی امانت میں جمع کر رکھا ہے۔اگر میں فوت ہو جاؤں تو وہ امانتی روپیہ میری وصیت میں جمع کرا دینا۔اور میرا یہ مکان وصیت میں لے لینا۔کیونکہ ( چوہدری ) ظفر اللہ خاں کو اپنی رہائش کے لئے یہ مکان پسند نہیں۔اور بقیہ روپیہ چوہدری ظفر اللہ خاں کو کہنا کہ وہ وصیت میں جمع کروا دیں۔چنانچہ وفات پر جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ایسا ہی کیا۔آپ کی وفات کے چند دنوں بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ والے دفتر میں کرسی پر بیٹھے ہیں۔میں نے آپ سے کہا کہ آپ تو فوت ہو گئے تھے، آپ یہاں کیسے آگئے تو فرمانے لگے۔میں تو تیسرے دن زندہ ہو گیا تھا۔آپ کو مقبرہ بہشتی کی آمدنی بڑھانے کا شوق تھا۔میں نے پھر ایک دفعہ خواب میں دیکھا۔آپ نے دریافت فرمایا کہ مقبرہ بہشتی کی آمد کیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ سینتیس ہزار روپے سالانہ۔فرمانے لگے یہ آمد بہت ہی تھوڑی ہے۔زیادہ ہونی چاہیئے۔ان ایام میں جبکہ آپ قادیان خدمت سلسلہ کے لئے تشریف لائے تھے۔صدر انجمن احمد یہ مالی طور پر انتہائی تنگی کے دور سے گزر رہی تھی۔عملہ اور سائر کے بلوں کی ادائیگی خزانہ سے چار چار ماہ تک نہ ہو سکتی تھی۔اور ہم کو مقبرہ بہشتی کے باغیچہ کی آبپاشی بالخصوص گرمی کے ایام میں ہر ہفتہ کرانی پڑتی تھی۔باغ میں کنواں تو تھا۔لیکن کرایہ کے بیل لے کر آبپاشی کرانی ہوتی تھی۔اس طرح باغ کے مالی اور چوکیدار کو بھی ہر مہینہ تنخواہ دینی ہوتی تھی اور دفتر مقبرہ کے مددگار کارکن کو بھی۔تو میں نے حضرت چوہدری صاحب سے اس تکلیف کا ذکر کیا۔اور اس سارے خرچ کا اندازہ قریباً ۱۰۰ روپے ماہوار تھا۔تو آپ نے فرمایا کہ ہر مہینے ایک سو روپیہ کے قریب وصیت کا کہیں نہ کہیں سے وصول کر کے رجسٹر ادخال خزانہ پر درج کر لیا کرو اور اس روپیہ سے باغیچہ اور دفتر کی ضروریات کو پورا کر لیا اور پھر خزانہ میں ایک طرف آمد جمع کراؤ۔دوسری طرف بل عملہ و سائر ڈلوالیا کرو۔میں نے عرض کیا۔ممکن ہے اس طرح کرنے سے کوئی اعتراض پیدا ہو۔فرمانے لگے۔”میں جو اوپر بیٹھا ہوں“ چنانچہ اس کے مطابق عمل شروع ہو گیا۔اور اس پر عمل ہوتا رہا اور عملہ دفتر عملہ باغ اور آبپاشی وغیرہ کا