اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 104 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 104

104 ضروری سرکاری کام تھا۔جسے چھوڑ کر میں نہیں جا سکتا تھا۔میں نے جواب میں کہا کہ میں کل یہاں سے روانہ ہو سکتا ہوں۔عزیز بشیر احمد نے اصرار کیا کہ آج ہی شملہ سے روانہ ہو جاؤ۔میں نے کہا کہ میں آپ کے اصرار سے اندازہ کر سکتا ہوں کہ کیا حالت ہے۔لیکن مجبور ہوں۔کل سہ پہر روانہ ہوکر انشاء اللہ تعالیٰ جمعہ کی صبح کو دہلی پہنچ جاؤں گا۔شام کو پھر ٹیلیفون کیا۔معلوم ہوا کہ حالت پہلے سے بہتر ہے۔اور کوئی ایسی تشویش نہیں۔ڈاکٹر لطیف صاحب کے ساتھ سول سرجن صاحب بھی علاج میں شامل ہیں۔۱۲ رمئی جمعرات کی صبح کو بھی ٹیلیفون کرنے پر ایسا ہی جواب ملا۔پھر بھی میں نے احتیاطاً اپنے تینوں بھائیوں کو تار دے دئے کہ دہلی پہنچ جائیں اور ہمشیرہ صاحبہ کو بھی ساتھ لیتے آئیں۔عزیز اسد اللہ خاں تو بدھ کی رات کو ہی لاہور سے روانہ ہو گیا تھا اور جمعرات کی صبح کو دہلی پہنچ گیا تھا۔باقی ہم سب جمعہ کی صبح کو دہلی پہنچ گئے۔دہلی پہنچنے پر والدہ صاحبہ نے مجھے بتایا کہ ۸ رمئی کی شام کو جب تم کا لکا اسٹیشن سے مجھ سے رخصت ہو کر چلے گئے تو تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ عزیز احمد اور عبدالرحیم جن کو تمہارے پاس موجود رہنا چاہیئے تھا ، پلیٹ فارم پر پھر رہے ہیں۔میں نے انہیں بلایا اور اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہا کہ ابھی بنگلے میں جاؤ اور جس کمرہ میں میرا بیٹا سو رہا ہے اس کے آگے رات گزارو۔میں نے عرض کی کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ رات یہ دونوں بنگلے کے دروازے کے سامنے برآمدہ میں سوئے ہیں۔دس بجے کے قریب والدہ صاحبہ نے خاکسار سے فرمایا۔اب پھر خاکسار نے اسے استفہام تصور کر کے جلدی سے عرض کی۔اب پھر اللہ تعالیٰ کا فضل چاہیئے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ پرسوں کی نسبت آپ کی حالت بہت اچھی ہے۔انشاء اللہ آپ کو جلد صحت ہو جائے گی۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔اب پھر مجھے قادیان لے چلو۔میں نے عرض کی کہ وہاں علاج کا پورا انتظام نہیں ہو سکے گا۔والدہ صاحبہ نے بہت حسرت سے مسکرا کر کہا۔”اچھا“۔اس دن دو پہر کو والدہ صاحبہ کو امتلاء کی تکلیف نہ ہوئی۔اور یہ وقت جو تشویش کا ہوا کرتا تھا بخیریت گذر گیا۔جس سے کچھ امید ہونے لگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں شفادے گا۔چنانچہ خاکسار نے تجویز کی کہ عزیزان شکر اللہ خاں اور اسد اللہ خاں کے گھر سے اور ہمشیرہ صاحبہ