اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 84 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 84

84 فضل سے انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں جگہ دیجیو۔پھر خاکسار سے مخاطب ہو کر کہا۔پلنگ مردانے میں لے جاؤ اور انہیں قادیان لے چلنے کی تیاری کرو۔اس تیاری کے دوران میں میں دبے پاؤں دو تین بار زنانہ میں گیا۔تا معلوم کروں کہ والدہ صاحبہ کا کیا حال ہے۔میں نے دیکھا کہ وہ مستورات میں بیٹھی ہوئی اطمینان سے والد صاحب کی بیماری کے حالات بیان کر رہی ہیں۔وو ” جب سب تیاری ہو چکی تو جنازہ پڑھا گیا اور والدہ صاحبہ بھی مع مستورات کوٹھی کے برآمدہ میں صف بندی کر کے جنازہ میں شامل ہوئیں۔صندوق موٹر میں رکھنے سے پیشتر میرے بازو کا سہارا لے کر صندوق کے پاس آئیں اور کہا : اللہ کے سپرد۔آپ نے مجھے ہر طرح سے خوش رکھا۔اور میری چھوٹی سے چھوٹی خواہش کو پورا کیا۔میرا دل ہمیشہ آپ پر راضی رہا۔مجھے تو یاد نہیں کہ آپ کی طرف سے مجھے کوئی تکلیف یا رنج پہنچا ہو۔لیکن اگر کبھی ایسا ہوا ہو۔تو میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آپ کو معاف کرتی ہوں۔مجھ سے کئی قصور اور کو تا ہیاں سرزد ہوئیں۔ان کی معافی میں اللہ تعالیٰ سے طلب کروں گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے۔اپنے والد صاحب کو میرا اسلام پہنچا دینا۔اور اگر ہو سکے تو اپنی حالت کی ہمیں اطلاع دینا۔“ اس تمام عرصہ میں یہ ایک آخری فقرہ ہی ان کے دل کے کرب کا شاہد ہوا۔اور غالبا یہ بھی بے اختیاری میں منہ سے نکل گیا۔ورنہ خدا تعالیٰ کی رضا کو انہوں نے نہ صرف صبر سے بلکہ بشاشت سے قبول کیا۔اور اس نصف صدی کی با محبت اور باوفا رفاقت کے ختم ہونے پر جو ہر دیکھنے والے کے لئے بطور نمونہ کے تھی، کسی قسم کے غم کا اظہار نہیں کیا۔ان کے دل پر جو گذری ، اس سے وہ خود ہی واقف ہوں گی۔لیکن دل کی کیفیت انہوں نے دل میں ہی رہنے دی۔کبھی کبھی اس کی کوئی جھلک کسی محرم راز کو نظر آجاتی تھی۔لیکن حتی الوسع وہ اس کے اظہار سے پر ہیز کرتی تھیں۔